30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالٰی عنہا عورت کا بے زیور نماز پڑھنا مکروہ جانتیں اور فرماتیں"کچھ نہ پائے تو ایك ڈوراہی گلے میں باندھ لے"مجمع بحار میں ہے:
|
عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما کرھت ان تصلی المرأۃ عطلا ولو ان تعلق فی عنقہا خیطا [1]۔ |
حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالٰی عنہا عورتوں کے بغیر زیور نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتیں(اور فرمایا کرتیں اگر اور کچھ نہ ہو تو ایك ڈورا ہی گلے میں لٹکالے۔(ت) |
بجنے والا زیورعورت کے لئے اس حالت میں جائز ہے کہ نامحرموں مثلا خالہ،ماموں،چچا،پھوپھی کے بیٹوں،جیٹھ،دیور،بہنوئی کے سامنے نہ آتی ہو نہ اس کے زیور کی جھنکار نامحرم تك پہنچے،الله عزوجل فرماتاہے:
|
"وَ لَا یُبْدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ"الاٰیۃ [2]۔ |
عورتیں اپنا سنگار شوہر یامحرم کے سوا کسی پر ظاہرنہ کریں۔ |
اور فرماتاہے:
|
" وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ "[3] |
عورتیں پاؤں دھمك کر نہ رکھے کہ ان کا چھپا ہوا سنگار ظاہر ہو۔ |
فائدہ:یہ آیہ کریمہ جس طرح نامحرم کو گہنے کی آواز پہنچنا منع فرماتی ہے یونہی جب آواز نہ پہنچے اس کا پہننا عورتوں کے لئے جائز بتاتی ہیں کہ دھمك کر پاؤں رکھنے کو منع فرمایا نہ کہ پہننے کو بخلاف جہل وہابیہ کہ بجتا گہنا ہی حرام کہتے ہیں۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶ و ۷: از کاٹھیاواڑ مسئولہ مولوی خلیل الرحمن صاحب ۱۷ ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)ایك شخص لوہے اور پیتل کا زیور بیچتاہے اور ہندومسلمان سب خرید تے ہیں اور ہر قوم کے ہاتھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع