30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وانما جاز منہ کان تبعا لان اللبس لایکون مضافا الیہ [1]۔ |
اورا س کا وہ حصہ جائز ہے جو تا بع ہو،اس لئے کہ پہننا اس کی طرف منسوب نہیں۔(ت) |
ہفتم:زنجیروں کے لئے نہ زر کی طرح کوئی نص فقیر نے پایا نہ جواز پر کوئی صاف دلیل بلکہ وہ بظاہر مقصود بنفسہا ہیں۔نہ زر کی طرح کپڑے کی،کوئی غرض ان سے متعلق نہ علم کی طرح ثوب میں مستہلك کہ تابع ثواب ٹھہریں،نہ ان سے سنگار اور زینت کے سوا کوئی فائدہ مقصود اور وہ زیور زناں سے کمال مشابہ ہیں۔ان کی ہیئت وحالت بالکل سہاروں کی سی ہے کہ ایك طرف ان کے کنڈوں میں بالیاں پروکر ان کو دونوں جانب سے پیشانی کے بالوں میں لاکر کانٹا ڈال کر ملاد یتے ہیں وہ بھی ان زنجیروں کی طرح لڑیاں ہی ہیں بلکہ ان سے علاوہ تزین ایك فائدہ بھی مقصود ہوتاہے کہ بالیوں کا بوجھ کانوں پر نہ پڑے یہ انھیں اٹھا کر سہارا دئے رہیں اسی لئے ان کو"سہارے"کہتے ہیں۔اور ان زنجیروں کی لڑیاں سوا زینت کے کوئی فائدہ نہیں دیتیں تو بہ نسبت سہاروں کے ان کی لڑیاں جھومر کی لڑیوں سے اشبہ ہیں اور سہاروں کی طرح یہ بھی داخل ملبوس ہیں بلکہ ان کا صرف زینت کے لئے بالذات مقصود اور کپڑے کی اغراض سے محض بے تعلق ونامستہلك ہونا جھومر کی طرح انکے اور بھی زیادہ لبس مستقل کا مقتضی ہے اور ذہب وفضہ میں اصل حرمت ہے تو جب تك صریح دلیل سے جواز ثابت نہ ہو زنجیروں پر عدم جواز ہی کاحکم دیں گے، ہدایہ میں ہے:
|
الاصل فیہ التحریم [2]۔ |
اصل اس کی حرمت ہے(یعنی سونے،چاندی میں اصل یہ ہے کہ دونوں مردوں کے لئے حرام ہیں اور عورتوں کے لئے جواز ہے۔(ت) |
تبیین الحقائق میں ہے:
|
الفضۃ والذھب من جنس واحد والاصل الحرمۃ فیہما [3]اھ ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
سونا،چاندی ایك ہی جنس ہیں۔اور ان دونوں میں اصل حرمت ہے۔(یعنی بلحاظ اصل دونوں حرام ہیں)اور یہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے)یہ میری تحقیق اور عندیہ ہے۔لیکن واقعی اور صحیح علم میرے رب کے پاس ہے،کیونکہ الله تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع