30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شبہہ لبس کہ تعلیق میں ہے بدرجہ اولی ہدایہ وکافی وتبیین وغیرہا میں ہے:
|
وھذا لفظ الامام النسفی فی الکافی اجمعنا ان القلیل من الملبوس حلال وھو الاعلام فکذا القلیل من اللبس والااستعمال والجامع انہ انموذج لنعیم الآخرۃ ترغیبا فیما ھو فی الاٰخرۃ لامقصود [1]۔ |
الکافی میں امام نسفی کے یہ الفاظ آئے ہیں ہم نے اس پر اتفاق کیا کہ تھوڑا ملبوس جائز ہے۔او روہ کپڑے کے نقش ونگار ہیں اور اسی طرح تھوڑا پہننا اور استعمال کرنا بھی(جائز ہے)اور (دونوں میں)جامع یہ ہے کہ یہ طریقہ تعلیم آخرت کے لئے نمونہ ہے تاکہ اموراخرت کی طرف رغبت پیدا ہو لہذا بالذات مقصود نہیں(جیسا کہ دلائل وشواہد سے معلوم ہوتا ہے۔)۔(ت) |
ششم:ہمارا دعوٰی نہ تھا کہ ہر چیز جو دوسرے کے ساتھ استعمال میں آتی ہو مطلقًا تابع ہے واقعات امام صدر شہید وفتاوٰی صغرٰی وفتاوٰی ذخیرہ ومحیط وغایۃ البیان وبعض شروح جامع صغیر و شرح قدروری وفتاوٰی منصوریہ وشرح نقایہ برجندی ومجمع الانہر وغیرہا میں نص فرمایا اور منیۃ الفقہاء و جامع الرموز وتتارخانیہ وتکملہ طوری وغیرہا میں اسی پر جز م واعتماد کیا کما فصلناہ کل ذٰلك فی فتاوٰنا(جیسا کہ ہم نے ان سب باتوں کو(اپنے مشہور زمانہ)فتاوٰی رضویہ میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ت)یہاں وارد نہیں بلکہ تبعیت اس لئے کہ لبس اس کی طرف مضاف نہیں ہوتا۔ہدایہ وتبیین وبرجندی ودر کی عبارتیں گزریں لانہ تابع کالعلم فی الثوب فلا یعد لابسالہ [2](اس لے کہ وہ تابع ہے جیسا کہ کپڑے کے نقش ونگار،پھر اسے پہننے والا شمار نہیں کیا جاتا۔ت) شرح ملتقی کی عبارت گزری :
|
اللبس لایکون مضافا الیہ بل یکون تبعا فی اللبس [3]۔ |
پہننا اس کی طرف منسوب نہیں بلکہ وہ پہننے میں تابع ہے۔ (ت) |
طحطاوی میں ہے:
[1] تبیین الحقائق کتا ب الکراھیۃ فصل فی اللبس المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر ۶ /۱۵۔۱۴،الہدایۃ کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۴
[2] الہدایۃ کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۵
[3] مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس مطبع یوسفی لکھنؤ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۳۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع