30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یستحب لبس ازار ورداء فان زررہ اوخلله اوعقدہ اساء ولادم علیہ [1]۔ |
تہبند اور چار کا پہننا مستحب ہے پھر اگر اسے گرہ لگائے یا اسے کھولے یا اسے گرہ لگا کر باندھے تو اس نے برا کیا لیکن اس پر دم نہیں(یعنی جانورذبح کرنا لازم نہیں)۔(ت) |
ظاہر ہے کہ طیلسان وچادر میں گھنڈیاں سلی نہیں ہوتی اور اطحام مذکورہ خیاطت پر موقوف نہیں بلکہ بلاخیاطت صورت ربط ہی زیادہ مقصود بالافادہ ہے کہ محرم کا مخیط سے احتراز تو معہودومشہور ار بجائے خود مذکور ہے ابوداؤد ونسائی وابن خزیمہ وابن حبان وحاکم سب اپنی صحاح میں اور امام اجل ابو جعفر طحاوی شرح معانی الآثار میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی الله تعالٰی عنہ سے راوی:
|
قال قلت یا رسول اﷲ انی رجل اصید افاصلی فی القمیص الواحد قال نعم وازررہ لوبشوکۃ [2]۔ |
(حضرت سلمہ بن اکوع رضی الله تعالٰی عنہ نے بارگاہ سالت میں)عرض کی:میں ایك شکاری آدمی ہوں ایك کرنے میں نماز پڑھ سکتاہوں،ارشاد فرمایا:ہاں(پڑھ سکتے ہو)لیکن اسے باندھ لو اگرچہ کسی کانٹے ہی سے کیو ں نہ ہو،مطلب یہ کہ اسے جوڑکر نما زپڑھو۔(ت) |
یہاں کانٹے کو بھی زر فرمایا،
|
والاصل الحقیقۃ والعدول الی المجاز من دون ضرورۃ غیر مجاز |
حقیقت اصل ہے۔اور بغیر کسی ضرورت(حقیقت چھوڑ کر)مجاز کی طرف جانا جائز نہیں۔(ت) |
تو بوتام یا بٹن نفس معنی زر میں داخل ہیں نہ کہ ان کا گھنڈی پر قیاس ہو۔
دوم:لفظ ذھب منسوج وحرج دونوں کو شامل،بلکہ وہ حجر میں اصل حقیقت پر ہے اور کلابتوں پر اس کا اطلاق از قبیل تسمیۃ الکل باسم الجزء ہے کہ اس میں ریشم بھی ہوتاہے اور گھنڈیاں انھیں منسوجات سے خاص نہیں بلکہ امراء کے یہاں سونے چاندی اور لعل ویاقوت کی بھی ہوتی۔قال قائلھم(ان کے کسی کہنے والے نے کہا۔ت) : ؎
ترانہ تکمہ لعل ست برقبائے حرر شدست قطرہ خون منت گریباں گیر
(ریشمی جبے پر تیرے لئے لعل وگوہر کی گھنڈیاں(بٹن)میرے خون کے ایك قطرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع