30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:ھو الصحیح لانہا مستقلۃ [1](یہی صحیح ہے کیونکہ یہ ایك مستقل چیز ہے۔ت)جب کمر بند با آنکہ پاجامہ کی غرض اس سے متعلق ہے بلکہ جس طرح اس کا لبس معروف ومعہود ہے وہ غرض بے اس کے تمام نہیں ہوتی مستقل قرار پایا تو یہ زنجیریں جن سے کپڑے کو کچھ علاقہ نہیں،نہ ا س کی کوئی غرض ان سے متعلق کیونکر تابع ٹھہرسکتی ہے اور اگر بالغرض کام کی جگہ لگایا جانا پتر کو بھ کام کے حکم میں کردے تولازم کہ چاندی کے کنگن توڑے،چنپا کلی،جھومر وغیرہا زیور بھی جائز ہیں جبکہ وہ آستینوں،گریبان،ٹوپی وغیرہا میں کاام کے قائم مام ٹانکے جائیں بلکہ واجب کہ وہ زنجیریں اور یہ سب گہنے سونے کے بھی حلال ہوں کہ تابع قلیل ذہب و فضہ دونوں سے روا،ردالمحتارمیں ہے:
|
ویؤید عدم الفرق مامر من اباحۃ الثوب المنسوج من ذھب اربعۃ اصابع [2] الخ۔ |
فرق نہ ہونے کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ بمقدار چار انگشت سونے کی تاروں سے بنا ہوا کپڑا مباح ہے الخ(ت) |
غرض کوئی وجہ ان زنجیروں کے جواز کی نظر نہیں آئی اور جب تك کلمات ائمہ سے اجازت نہ ثابت ہو حکم ممانعت ہے لما بینا۔
رہی وہ حدیث کہ حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے قریب گریبان مبارك چاندی کا پتر لگایا فقیر کو کسی کتاب سے یا دنہیں۔نہ عادات بلاد اس کی مساعدت کریں کہ گریبانوں میں چاندی کے پتر لگائے جاتے ہوں،ہاں یہ بیشك حدیث میں آیا ہے کہ حضور پر نورر سید یوم النشور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے جبہ پہنا جس کے گریبان اور آستینوں اور چاکوں پر ریشم کی خیاطت تھی۔
|
کما فی حدیث اسماء بنت الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہما اخرجہ الائمۃ احمد فی المسند والبخاری فی الادب المفرد ومسلم فی صحیحہ وابوداؤد فی السنن [3]۔ |
جیسا کہ سیدہ اسماء بنت حضرت ابوبکر صدیق رضی الله تعالٰی عنہما کی حدیث میں آیا ہے جس کو ائمہ کرام امام احمد نے مسند میں امام بخاری نے ادب المفرد میں امام مسلم نے صحیح میں اور امام ابوداؤد نے السنن میں اس کی تخریج فرمائی ہے۔(ت) |
[1] حاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۱۷۸
[2] ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۲۶
[3] صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۰،سنن ابی داؤد کتاب اللباس والزینۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۵،مسند احمد بن حنبل عن اسماء بنت الصدیق رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۴۸۔۳۴۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع