30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورگھنڈی اور بوتام ایك چیز ہے صرف صورت کا فرق ہے،اور جب سونا جائز تو چاندی بدرجہ اولٰی جائز،مگر یہ چاندی کی زنجیریں کہ بوتاموں کے ساتھ لگائی جاتی ہیں سخت محل نظر ہیں،کلمات آئمہ سے جب تك ان کے جواز کی دلیل واضح کہ آفتاب روشن کی طرح ظاہر و جلی ہو نہ ملے حکم جواز دینا محض جرأت ہے کہ چاندی سونے کے استعمال میں اصل حرمت ہے۔ شیخ محقق مولٰنا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ،اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
|
اصل دراستعمال ذہب وفضہ حرمت ست [1]۔ |
سونے اور چاندی کے استعمال کرنے میں اصل حرمت ہے۔ (ت) |
یعنی جب شرع مطہر نے حکم تحریر فرما کر ان کی اباحت اصلییہ کو نسخ کردیا تواب ان میں اصل حرمت ہوگئی،کہ جب تك کسی خاص چیز کی رخصت شرع سے واضح وآشکار نہ ہو ہر گزا جازت نہ دی جائے گی بلکہ مطلق تحریم کے تحت میں دخل رہے گی ھذا وجہ۔
واقول ثانیًا: ظاہر ہے کہ ان زنجیروں کے اس طرح لگانے سے تزین مقصو دہوتاہے۔بلکہ تزین ہی مقصود ہوتاہے اور ایسے ہی تزین کو تحلی کہتے ہیں،اور علماء تصریح فرماتے ہیں مرد کو سوا انگوٹھی پیٹی اور تلوار کے سامان مثل پرتلے وغیرہ کے چاندی سے تحلی کسی طرح جائز نہیں، تنویرالابصار میں فرماتے ہیں:
|
لایتحلی ای لایتزین درر [2]۔ |
چاندی کا کوئی زیور(سوائے مخصوص اشیاء کے)نہ پہنے یعنی اس سے زیب وزینت کا فائدہ نہ اٹھائے درر(ت) |
جب یہ زنجیریں مستثنیات سے خارج ہیں تو لاجرم حکم نہی میں داخل ہیں۔
واقول ثالثًا: اس طرح لگانا اگر حقیقۃ زنجیر پہننا نہیں تو پہننے سے مشابہ ہے اور محرمات میں شبہ مثل یقین ہے۔
|
فی ردالمحتار التعلیق یشبہ اللبس فحرم لذٰلك لما علم ان الشبھۃ فی باب المحرمات ملحقۃ بالیقین رملی [3]۔ |
ردالمحتار میں ہے کہ لٹکانے کے مشابہ ہے اس لئے حڑام ہے کیونکہ یہ معلوم ہو چکا ہے کہ محرمات کے باب میں شبہہ یقین کا درجہ رکھتاہے،رملی(ت) |
[1] اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس فصل باب الخاتم مکتبہ نوری رضویہ سکھر ۳ /۵۶۲
[2] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظروا لاباحۃ فصل فی اللباس مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰،ردالمحتار کتاب الحظر وا لاباحۃ فصل فی اللباس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۲۹
[3] ردالمحتار کتاب الحظروا لاباحۃ فصل فی اللباس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۲۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع