دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 21 | فتاوی رضویہ جلد ۲۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲۱

گزار کر دوسرے وقت لعب وغنا کا وجود ہو مگر کھانے کے وقت نہ ہو تو جائز ہے اگر یہ صحیح ہے تو سوال یہ ہے کہ نفس ارتکاب مناہی وملاہی میں دونوں برابر ہیں وجہ تفریق کیا ہے بعض لوگ دوپہر کو کھانا کرتے ہیں اور شام کو برات میں تمامی خرافات باجے وغیرہ رکھتے ہیں تو کیا اس کے یہاں علم قبل الحضور کی صورت میں جائز ہوگا؟

(۲)زید کہتاہے کہ فی زماننا جو دعوتیں دی جاتی ہیں ان میں عموما فخر وتطاول وانشاء الحمد کا خیال ہوتاہے اور فقہاء اس قسم کی دعوتوں کو منع فرماتے ہیں لہذا وہ کسی دعوت میں نہیں جانا اس کا یہ فعل کیساہے اور یہ بھی کہتاہے کہ آج کل حبوب طعام کی بہت بے قدری ہوتی ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)

الجواب:

(۱)تقیید مطلق وتخصیص عمومات وتفصیل مجمل وتوضیع مبہامات منصب شراح ہے اسی غرض کے لئے وضع شروح ہے وہ اس سے مبائن نہ سمجھے جائیں گے بلکہ مبین کما فی ردالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار(جیسا کہ ردالمحتار(فتاوٰی شامی)وغیرہ قابل اعتماد بڑی کتابوں میں مذکور ہے۔ت)استماع یعنی قصد سننا یہ تو اس کا فعل ہے اور اس میں منزل بھی شرط نہیں کہیں ہواور کتنی ہی دور ہو جہاں سے آواز آئے،یہاں نظر علماء اس عاصی بالقصد کی طرف نہیں بلکہ متقی کی جانب جواتباع شرع چاہتاہے اس کے لئے مائدہ ومنزل کا فرق ظاہر ہے مائدہ پر ہو تو فساق کے ساتھ بیٹھنا ہوگا اور آیہ کریمہ

فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸ "[1](یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ت)کا خلاف،بخلاف منزل۔ جب یہ شرکت دعوت کے لئے جاتا ہے اوردعوت کے وقت ملاہی نہیں تو یہ شریك اثم نہ ہوبعد کو وہ جو کچھ کریں ان کا فعل ہے فافترقا(پس دونوں فرق ظاہر ہوگیا۔ت)اوریہ حکم شراح ہنوز محل وطالب تفصیل ہے جسے فقیر نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا اس کا خلاصہ یہ کہ اس کا ان پر ایسا رعب ہے کہ اس کے سامنے نہ کرسکیں گے تو ضرور جائے کہ اس کا جانا نہی عن المنکر ہے۔اور اگر انھیں اس سے ایسا علاقہ محبت ہے کہ اس کا شریك نہ ہونا کسی طرح گوارہ نہ کریں گے تو ضرور شرکت سے انکار کرے جب تك وہ ترك ملاہی کا عہد وپیمان نہ دیں،اور اگر یہ دونوں صورتیں نہیں تو تفصیل وہ ہے کہ شراح نے ذکر فرمائی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۲)قبول دعوت سنت ہے فقہاء کرام کا حکم غیر معین پر ہے اورنہ ہر گز ان کے یہاں تعمیم،نہ اصلا اس پر دلیل قویم۔وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ جہاں ایسا ہو وہاں نہ جانا چاہئے۔غیر معین پر حکم کسی معیّن


 

 



[1]  القرآن الکریم ۶ /۶۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن