30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلاصہ لکھنا۔
الجواب:
قرآن مجید میں گوشت ہمیشہ کھانے کی کہیں ممانعت نہیں۔یہ غلط بات ہے ہاں نفس پروری کو قرآن مجید نے منع فرمایا ہے۔
مسئلہ ۲۵۷: بریلی نو محلہ ۷/صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین بیچ اس امر کے،عشرہ محرم الحرام میں شکار کھیلنا مسلمانوں کو درست ہے یانادرست؟ بینوا توجروا
الجواب:
جسے کھانے یا دوا کے لئے کسی جانور کی حاجت ہے وہ اگر بقدر حاجت وہ ایك جانور مار لائے تو یہ کسی کھیل یا تفریح کا فعل نہ ہوگا آیہ کریمہ " وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوۡا ؕ "[1](لوگو! جب تم(احرام سے فارغ ہوکر)حلال ہوجاؤ تو پھر شکار کرنا چاہو تو کرسکتے ہو۔ت) اسی کا ذکر ہے مگر بے حاجت مذکورہ تفریح طبع کے لئے جو شکار کیا جاتاہے وہ خود ناجائز ہے کہ ایك لہو ولعب لوگ خود اسے شکار کھیلنا کہتے ہیں،اور کھیل کے لئے بے زبانوں کی جان ہلاك کرناظلم وبے دردی ہے۔ اشباہ والنظائر میں ہے:
|
الصید مباح الا للتلھی [2]۔ |
(یاد رکھو)شکار کرنا مباح ہے مگر جب کہ بطور کھیل ہو(تو اس کی اجازت نہیں)۔(ت) |
اسی طرح وجیز کردری وتنویر الابصار میں ہے تو کھیل اور ناجائز کھیل اور عشرہ محرم۔
|
اناﷲ وانا الیہ راجعون وحسبنا اﷲ و نعم الوکیل۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بے شك ہم اﷲ تعالٰی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے،او ر اﷲ تعالٰی ہمیں کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔اور اﷲ تعالٰی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۲۵۸: مرسلہ محمد حسن صاحب فاروقی ضلع پورینہ ڈاکخانہ اسلام پور ۲۲ صفر ۱۳۳۵ھ
سود خوار کے مکان کا کھانا درست ہے یانہیں ؟ اور جس مال میں کہ سود کا شبہہ ہو اس کا کھانا کیسا ہے؟ اوراگر زید تمام عمر سود کا مال جمع کرتا رہا اور اس کے بیٹے عمرو کو بخوبی معلوم کہ یہ مال تمام سود کا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع