30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ما اشبہہ فلا ینبغی اجابتھا لاسیما اھل العلم اھ ومقتضاہ انھا سنۃ مؤکدۃ بخلاف غیرھا وصرح شراح الہدایۃ بانھا قریبۃ من الواجب وفی التاتارخانیۃ عن الینابیع لو دعی الی دعوۃ فالواجب الاجابۃ ان لم یکن ھنالك معصیۃ ولا بدعۃ و الامتناع اسلم فی زماننا الا اذا اعلم یقینا ان لا بدعۃ ولا معصیۃ اھ والظاھر حملہ علی غیر الولیمۃ لما مر تأمل اھ [1] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
خواہ کھائے یا نہ کھائے،لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اگر روزہ دارنہ ہو تو کھانا ضرور کھائے،اور البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے کہ اجابت دعوت طعام سنت ہے خواہ دوعوت ولیمہ ہو یا کوئی اور دعوت ہو،رہی وہ دعوت کہ جس سے نام ونمود،نمائش اور فخر وریا اور قصیدہ گوئی وغیرہ مقصود ہو،تو پھر اس قسم کی دعوت کو قبول نہ کرنا اور مسترد کردینا ہی زیادہ مناسب ہےخصوصا اہل علم حضرات کے لئے(یہی زیادہ موزوں ہے) اھ اور اس کا مقتضا یہ ہے کہ دعوت ولیمہ سنت مؤکدہ ہے جس کے علاوہ یہ حکم نہیں البتہ شارحین ہدایہ نے یہ تصریح فرمائی کہ دعوت کا حکم واجب کے قریب ہے۔ تاتارخانیہ میں ینابیع کے حوالے سے منقول ہے کہ اگر کسی کو شمولیت دعوت کے لئے مدعو کیا جائے تو اسے قبول کرنا واجب ہے بشرطیکہ وہاں کوئی گناہ اور بدعت کا کام نہ ہو،اور ہمارے زمانے میں زیادہ سلامتی اسی میں ہے کہ دعوت میں شمولیت سے بازرہے۔ہاں البتہ اگر اسے قوی یقین ہو کہ وہاں کوئی گناہ اور بدعت نہیں(توپھر ضرور شریك ہو)اور ظاہر یہ ہے کہ اسے غیر ولیمہ پر حمل کیا جائے۔اس وجہ سے جو بات گزر چکی۔غور وفکر کیجئے اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۲۵۵: از بمبئی سندھر سٹ روڈ نمبر ۹ شیخ امام علی صاحب اسکریم والے روز شنبہ ۶ رمضان المبارك ۱۳۳۴ھ جھینگا مچھلی کا شمار مچھلیوں میں ہے یانہیں اوراس کاکھانا ہمارے مذہب میں جائز ہے یامکروہ یا کیا؟ فقط۔
الجواب:
جھینگےمیں اختلاف ہے کہ وہ مچھلی ہے یانہیں۔اگر مچھلی ہے حلال ورنہ حرام۔لہذا اس سے بچنے میں احتیاط ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶: از ملك کاٹھیا واڑ مقام اڑتیان امین احمد پنجشنبہ ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
گوشت ہمیشہ کے واسطے کھانا بعض بولتے ہیں کہ یہ قرآن شریف سے ثابت نہیں اس کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع