30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۵۴: بروز شنبہ بتاریخ ۲/ جمادی الاولٰی شریف ۱۳۳۴ھ
کیا حکم ہے شرع مطہرہ کا اس میں کہ دعوت طعام کون سی سنت ہے کہ کس دعوت طعام سے انکار کرنا اور قبول نہ کرنا گناہ ہے ؟ بالتفصیل ارشاد ہو،بینوا توجروا(بیان فرمائے اجر پائے۔ت)
الجواب:
دعوت ولیمہ کا قبول کرناسنت مؤکدہ ہے جبکہ وہاں کوئی معصیت مثل مزامیر وغیرہا نہ ہو نہ اور کوئی مانع شرعی ہو،اور اس کا قبول وہاں جانے میں ہے،کھانے نہ کھانے کا اختیار ہے باقی عام دعوتوں کا قبول افضل ہے جبکہ نہ کوئی مانع ہو نہ کوئی ا س سے زیادہ اہم کام ہو،اور خاص اس کی کوئی دعوت کرے تو قبول کرنے نہ کرنے کا اسے مطلقًااختیار ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
|
دعی الی الولیمۃ ھی طعام العرس وقیل الولیمۃ اسم لکل طعام وفی الہندیۃ عن التمرتاشی اختلف فی اجابۃ الدعوۃ وقال بعضھم واجبۃ لایسع ترکھا و قال العامۃ ھی سنۃ والا فضل ان یجیب اذا کانت ولیمۃ و الا فھو مخیر والاجابہ افضل لان فیھا ادخال السرور فی قلب المؤمن واذا اجاب فعل ما علیہ اکل اولا والافضل ان یأکل لو غیر صائم وفی البنایۃ اجابۃ الدعوۃ سنۃ ولیمۃ اوغیرہا و امادعوۃ یقصد بہا التطاول وانشاء الحمد او |
کسی کو ولیمہ میں شمولیت کی دعوت دی گئی،اور ولیمہ شادی کی دعوت کا نام ہے۔اور یہ بھی کہا گیا کہ ہر دعوت طعام ولیمہ کہلاتی ہے۔فتاوی عالمگیری میں اما م تمرتاشی سے روایت ہے کہ دعوت قبول کرنے میں اختلاف کیا گیا(یعنی اس کی شرعی حیثیت ونوعیت میں ماہرین قانون فقہ کا اختلاف ہے) چنانچہ بعض ائمہ کے نزدیك دعوت قبول کرنا شرعا واجب ہے،لہذا اس کے ترك کی کوئی گنجائش نہیں لیکن علماء کرام نے فرمایا کہ وہ سنت ہے۔اور افضل(اور عمدہ)یہ ہے کہ دعوت طعام ضرور قبول کرے بشرطیکہ دعوت ولیمہ ہو ورنہ اسے اختیار ہے کہ(یعنی دعوت قبول کرنے نہ کرنے میں وہ خود مختار ہے)لیکن اجابت بہتر ہے۔کیونکہ اس میں ایك مسلمان کے دل کی خوشنودی ہے(کہ اس طرح کرنے سے اس کودلی مسرت ہوگی جو کہ اسلام میں مطلوب ہے)اور جب دعوت قبول کرلے تو پھر جو کچھ ااس کی ذمہ داری ہے اسے نبھائے کھانا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع