30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال اﷲ تعالٰی" وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:اگر شیطان تمھیں بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے کے بعد ہر گز ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔(ت) |
اس کے یہاں کھانا اور زیادہ معیوب ہے مگر مذہب صحیح میں نفس طعام حرام نہیں سوا اس صورت کے کہ وہ خود اسے وجہ حرام میں ملاہو مثلا اجرت غنایا زنا یا رشوت زانیہ میں ناج دیا گیا وہ ناج اس کھانے میں ہے یا اس نے اسے زر حرام سے خریدا اور خریداری میں عقد ونقد اسی مال حرام پر جمع ہوئے مثلا وہ زر حرام دکھا کر کہا اس کے عوض دے دو یہ تو حرام پر عقد ہو اپھر جب اس نے دے دیا وہی زر حرام ثمن میں دیا یہ حرام کانفد ہوا ان دونوں صورتوں میں وہ کھانا حرام ہے ورنہ نہیں۔
|
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حرام بعینہ ھندیۃ [2] عن الذخیرۃ عن محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
ہم اس کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین شے کے متلعق حرام ہونے کو نہ جانیں،فتاوٰی ہندیہ بحوالہ ذخیرہ، حضرت امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔(ت) |
مسئلہ ۲۳۵: مسئولہ اشرف علی طالب علم بنگالی مدرسہ اہلسنت وجماعت بروز پنچشنبہ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك رنڈی سے نکاح کرلیا ہے اور اس رنڈی کا مال اسباب بھی اپنے مکان پر لے آیا ہے اب وہ مال طیب ہوسکتاہے یا نہیں اور اس کے گھر میں کھانا پینا کیساہے اور اس شخص نے اپنا مال بھی اس رنڈی کے مال میں ملادیا ہے۔بیان کرو ثواب پاؤ گے۔
الجواب:
وہ مال یوں ہر گز طیب نہیں ہوسکتا اور اس نے اپنا مال اس سے ملاکر یہ بھی خبیث کردیا اس کے یہاں کھانا پینا نہ چاہئے جبکہ رنڈی کا مال غالب ہو اور اگر معلوم ہو کہ یہ مال جو سامنے آیا ہے رنڈی کا مال ہے جب تو اس کا کھالینا عین حرام ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع