30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لٹیرا ہوکرنکلا۔ خصوصًا جبکہ دعوت عام نہ ہو تو معہود ومعروف سے زائد آدمی لے جانا سخت ناجائز ہے مثلا جو لوگ عادی ہیں کہ بے آدمی کے ساتھ لئے ہوئے کہیں نہیں جاتے ان کی جو دعوت کرے گا آپ جانے گا کہ ساتھ آدمی ہوگا المعروف کالمشروط (جو بات لوگوں کے عرف اور واج میں مشہور ہے وہ طے شدہ شرط کی طرح ہے۔ت)ہاں اگر کسی بے تکلفی والے نے دعوت کی اور کچھ حاجتمندہیں کہ یہ ان کا ساتھ لے گیااور ان کا بار اس پر نہ پڑے گا خواہ یوں کہ دسترخوان وسیع ہے اور دل فراخ یا یوں کہ ان کی کفالت یہ خود کرے گا اور اسے ناگوار نہ ہوگا تو حرج نہیں جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالی عنہما نے غزوہ خندق میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی دعوت کی اور دو صاحبوں کے قابل کھانا پکایا،جب یہ دعوت کو عرض کرنے گئے ہیں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بآواز بلند ارشاد فرمایا کہ اہل خندق ! جابر تمھاری ضیافت کرتاہے،وہ ایك ہزار صحابہ کرام تھے رضی اﷲ تعالی عنہم،اور جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے فرمایا:جب تك ہم تشریف نہ لائیں کھانا نہ اتار ا جائے او کما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم(جیساکہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ گھبرائے ہوئے اپنے گھر تشریف لائے اور اپنی زوجہ مقدسہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے حال بیان کیا کہ یہاں دو ہی آدمیوں کے قابل کھانا ہے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مع ایك ہزار صحابہ کے تشریف لا تے ہیں،ان بی بی نے کہا:آپ کو اس کی کیا فکر ہے جو لاتے ہیں وہی سامان فرمانے والے ہیں۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے آٹے اور ہانڈی میں لعاب دہن اقدس ڈالا اور ارشاد فرمایا کہ روٹی پکانے والی بلالو اور ہانڈی چولھے پر رہنے دو۔اس قلیل آٹے اور گوشت سے ایك ہزار صحابہ کو پیٹ بھر کر کھلادیا اور ہانڈی ویسا ہی جوش مارتی رہی اور آٹا ذرا کم نہ ہوا [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۲: مرسلہ شیخ احمد از بمبئی معرفت حکمت یار خاں بریلی بروز دوشنبہ ۱۱/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ ملفوظ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص قمار باز جس کا پیشہ سوائے جوا کے اور کچھ نہ ہو،یا کوئی طوائف ناچنے گانے والی یا کوئی کسبی حرام پیشہ بارھویں شریف یا گیارھویں شریف میں آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور حضرت غوث اعظم قدس سرہ،کی نیاز کرے اس کا کھانا شرعا جائز ہے یانہیں؟ بحوالہ کتب معتبرہ ارشاد فرمائیں،بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
جس کا پیشہ محض حرام کا ہو اس سے مخالطت ویسے ہی نہ چاہئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع