30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جبکہ پانی یا برتن میں خلط نجاست معلوم نہ ہو،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۹ تا ۲۵۱: از بنارس چھاؤنی محلہ دبٹوری محال تھانہ سکرور رسیدہ مومولوی عبدالوہاب بروز چہارشنبہ بتاریخ ۲۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
(۱)یہ کہ اگر کسی شخص کو دعوت دے کر بلائے اور وہ شخص دعوت کھا کر کھانے میں عیب نکالے تو وہ شخص گنہگارشرعا ہے یانہیں۔جائز کہ نہیں۔مثلا کہے کہ گھی کم ہے مرچ زیادہ ہے۔
(۲)یہ کہ کسی مر دمسلمان کا سر برہنہ ہوکر کھانا کھانا ازروئے شرع شریف درست ہے یانہیں؟ اور اس شخص کے ساتھ جو سر برہنہ کھاتاہو شیطان کھاتاہے یانہیں؟ اور خلاف سنت ہے یانہیں؟
(۳)یہ کہ اگر کوئی شخص کسی ایك شخص کی دعوت کرے تو چند آدمیوں کو لے کر اس شخص کادعوت میں جانا اور ان لوگوں کو بھی مجبور کرکے دعوت کھلانا جائز ہے یا نہیں حالانکہ یہ لوگ بلادعوت ہیں؟
الجواب:
(۱)کھانے میں عیب نکالنا اپنے گھر پر بھی نہ چاہئے مکروہ وخلاف سنت ہے عادت کریمہ یہ تھی کہ پسند آیا تو تناول فرمایا ورنہ نہیں اور پرائے گھر عیب نکالنا تو مسلمانوں کی دل شکنی ہے اور کمال حرص و بے مروتی پر دلیل ہے۔گھی کم ہے یا مزہ کا نہیں یہ عیب نکالنا ہے اور اگر کوئی شے اسے مضر ہے اسے نہ کھانے کے عذر کے لئے اس کا اظہار کیا نہ کہ بطور طعن وعیب،مثلا اس میں مرچ زائد ہے میں اتنی مرچ کا عادی نہیں تو یہ عیب نکالنا نہیں اور اتنا بھی بے تکلفی خاص کی جگہ ہو اور اس کے سبب دعوت کنندہ کو اور تکلیف نہ کرنی پڑے مثلا دو قسم کا سالن ہے ایك میں مرچ زائد ہے اور یہ عادی نہیں تو اسے نہ کھائے اور وجہ پوچھی جائے بتادے،اور اگر ایك ہی قسم کا کھانا ہے اب اگر نہیں کھاتا تو دعوت کنندہ کو اس کے لئے کچھ اور منگانا پڑے گا اسے ندامت ہوگی اور تنگدست ہے تو تکلیف ہوگی،ایسی حالت میں مروت یہ ہے کہ صبر کرے اور کھائے اور اپنی اذیت ظاہرنہ کرے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)جو بسم اﷲ کہہ کر کھانا کھاتاہے شیطان اس کے ساتھ نہیں کھا سکتا اور جو بغیر بسم اﷲ کھائے شیطان اس کے ساتھ کھائے گا اگرچہ سر پر سوکپڑے ہوں،ننگے سر کھانا،ہنود کی رسم ہے اور خلاف سنت ہے ہاں کوئی عذر ہو تو حرج نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳)بلا دعوت جو دعوت میں جائے اسے صحیح حدیث میں فرمایا:دخل سارقا وخرج معیرا [1]چور بن کر گیا اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع