30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی فتاوٰنا۔ |
کردیا گیا اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تشریح کردی ہے۔(ت) |
اس کے سوا اور باجوں سے احترز کیا جائے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳)جواری کا طلاق لڑکوں واور چھوکریوں دونوں پر آتاہے کنیزوں کا گانا کہ محض طبعی طور پر ہو،نہ قواعد موسیقی پرتعلیم کیا ہوا اور اس میں فحش وغیرہ کوئی امر خلاف شرع نہ ہو،نہ اس میں فی الحال فتنہ ہو نہ آئندہ فتنے کا اندیشہ ہو،محل سرور مثل نکاح وعیدین میں مضائقہ نہیں رکھتا اور بہت چھوٹی چھوٹی لڑکیاں اگر بطور خود کچھ آوازیں نکالیں جو غیر مردوں کو نہ پہنچے تویہ بھی فی نفسہٖ ایسا منکر نہیں جس پر شرعا مواخذہ ہو اور اپنی حیثیت وعزت وعرف وعادت کے اختلاف سے یہاں اختلاف ہوجائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۴)تیجہ،دسواں،چہلم سب جائز ہیں جب بہ نیت محمودوبطور محمود ہو اور ان کا کھانا مساکین و فقراء کے لئے چاہئے برادری کی دعوت کے طور پر نہ ہو۔
|
فان الدعوۃ انما اشرعت فی السرور لا فی الشرور فتح [1] وغیرہ۔ |
دعوت کا جواز خوشی میں ہوتاہے نہ کہ مواقع غم میں،فتح القدیر وغیرہ(ت) |
(۵)یہ مسائل محض فرعیہ ہیں مگر اول وچہارم میں مطلقًا کلام ان بلاد میں شعار وہابیہ ہے اور وہابی ایك سخت گمراہ بددین فرقہ ہے جس کا حال الکوکبۃ الشہابیہ وسل السیوف الہندیہ والنہی الاکید وفتاوٰی الحرمین وحسام الحرمین وغیرہا تصانیف فقیر سے ظاہر،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۸: از نجیب آباد ضلع بجنور مسئولہ جناب محمد احمد حسین خاں صاحب ۷ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
کسی شخص کی ضیافت خواہ مسلمان ہو خواہ کافرنہ کرنی چاہئے اور کس شخص کی نامنظور کرنی چاہئے اور کیوں؟ بینوا توجروا
الجواب:
مرتد کی نہ دعوت کرے نہ اس کی دعوت میں جائے نہ اس سے کوئی معاملہ میل جول کا رکھے،یونہی کفار خصوصا وہ جو ذمی یعنی سلطنت اسلامیہ میں رہ کر مطیع الاسلام نہ ہوں ان سے بھی کوئی برتاؤ محبت ودوستی کا نہ کرے ہاں مصلحت شرعیہ ہو تو اس کی دعوت کرے بھی اورکھائے بھی جس کی بد مذہبی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع