30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۲۳۳ تا ۲۳۷: از بمبئی محلہ چوٹا بھٹی مسئولہ مولوی عبدالقادر صاحب مدرس اول مدرسہ کمون سیٹھ ۵ رجب المرجب ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)اولیائے کرام کے مزا رپر واسطے فاتحہ وامداد مردوں اور عورتوں کو جانا درست ہے یانہیں؟
(۲)شادی میں دف تاشہ بجانا درست ہے یانہیں؟
(۳)شادی میں لڑکیوں کا گانا درست ہے یانہیں؟
(۴)تیجہ،دسواں،چہلم کا کھانا درست ہے یانہیں؟
(۵)مسائل بالا کو نادرست کہنے والا کیا سمجھا جائے ازروئے شرع شریف کیا حکم ہے؟ بینو توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)مزارات اولیاء کرام پر بلحاظ آداب ومراعات احکام شرعیہ فاتحہ واستمداد واستفادہ کے لئے مردوں کا جانا جائز ومندوب ومحبوب ومرغوب ہے۔شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی میں لکھتے ہیں:
|
ازاولیاء مدفونین انتفاع واستفادہ جاری ست [1]۔ |
اہل قبور اولیاء سے فائدہ اور استعفادہ جاری ہے یعنی ہر دورمیں لوگوں کا معمول ہے۔(ت) |
مگر عورتوں کو حاضری سے روکنا ہی انسب واسلم ہے،
|
کما افادہ فی الغنیۃ وبیناہ فی فتاوٰنا واﷲ سبحنہ و تعالٰی اعلم۔ |
جیسا کہ الغنیہ میں اس کا افادہ پیش کیا اور ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔ |
(۲)دف کہ بے جلا جل یعنی بغیر جھانجھ کا ہو اور تال سم کی رعایت سے نہ بجایاجائے اور بجانے والے نہ مرد ہوں نہ ذی عزت عورتیں، بلکہ کنیزیں یاایسی کم حیثیت عورتیں اور وہ غیر محل فتنہ میں بجائیں تو نہ صرف جائز بلکہ مستحب ومندوب ہے۔
|
للامر بہ فی الحدیث والقیود مذکورۃ فی ردالمحتار وغیرہ شرحناھا |
حدیث میں مشروط دف کے بجانے کاحکم دیا گیا اور اس کی تمام قیود کو فتاوٰی شامی وغیرہ میں ذکر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع