30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھاتے ہیں ان کے یہاں کا کھانا کھانا جائز ہے یانہیں؟(ت)
(۲)مسلمانوں کو قصد ا شکار سور کا کھانا اوربلم سے مارنا اور کتے سے اور اہل ہنود کو کھلانا جائز ہے یانہیں؟
(۳)سود لینے والے کے یہاں کھانا کھانا جائز ہے یانہیں؟ ایك مولوی صاحب نے کہا کہ اگر اس کی آمدنی اور جگہ سے بھی ہے تو اس کے یہاں کھانا کھانا جائز ہے۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)جو کفار اس بدجانور کو کھاتے ہیں جیسے ٹھاکر وغیرہ،بہتر یہ ہے کہ ان کے یہاں کی روٹی سے بھی احتراز کیا جا ئے کہ ظاہر یہی ہے کہ ان کے برتن اوربدن سب نجس ہوتے ہیں،اور یہی حال ان کے بامنوں وغیرہ اقوام کا بھی ہے کہ وہ سوئر نہ کھائیں تو گوبر اور بچھیا کاموت تو ان سب کے نزدیك پاك بلکہ پبتر ہے وہ سب نجس ہیں مگر شریعت آسان ہے جب تك کسی خاص شے میں حرمت یا نجاست کا حال معلوم نہ ہوہمارے لئے پاك وحلال ہے ورنہ بازار کا دودھ،گھی،مٹھائی سب کایہی حال ہے۔امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:
|
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بیعینہ [1]۔ |
ہم اسی کو لیتے ہیں(یعنی عمل کرتے ہیں)جب تك کسی شئی کے حرام ہونے کو پہچان نہ لیں۔(ت) |
(۲)سوئر اگر کھیتی وغیرہ کو ضرر دے یا اس سے انسان یا مویشی پر حملہ آوری کااندیشہ ہو تو اسے کتے سے شکار کرنا خواہ بلم یا بندوق سے مارنا جائز بلکہ مستحب،بلکہ بعض اوقات میں فرض وواجب ہے۔مگر ہندو وغیرہ کسی کافر کو اس کا کھلانا یا اس کے پاس بھجوانا سخت حرام ہے۔کہ کھانے اور کھلانا ایك حکم ہے۔اشباہ میں ہے:
|
ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ [2]۔ |
جس چیز کالینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے۔(ت) |
(۳)سود خوار کے یہاں نہ کھانا بہتر ہے خصوصا عالم ومقتداء کو اورفتوٰی وہی ہے کہ جب تك کسی خاص مال کی حرمت معلوم نہ ہو منع نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع