30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)انھوں نے بہت اچھا کیا ان پر کچھ الزام نہیں۔
(۳)عوامِ ہندوستان نے چھوت کا مسئلہ کفار ہند سے سیکھا ہے۔دھوبی ہر قسم کے کپڑے طاہر ونجس سب کچھ دھوتے ہیں اس لئے ہندو چھوت مانتے ہیں۔جاہل مسلمان بھی انھیں کی پیروی کرتے ہیں اور خود ہندوؤں کے مکانوں اور دکانوں سے دودھ،دہی، پوری،کچوری،مٹھائی سب کچھ کھاتے ہیں حالانکہ تمام ہندو سخت گندے رہتے ہیں اور ان کے پانی برتن نہایت گھن کے قابل ہیں مسلمان دھوبیوں سے ظاہریہی ہے کہ وہ ضرور اپنے کھانے پانی میں طہارت کا خیال رکھتے ہونگے اور ہندوؤں سے اصلا اس کی امید نہیں جس قوم کے یہاں گوبر پوتر ہو یعنی پاك کرنے والا،انھیں طہارت سے کیا علاقہ۔البتہ جو دھوبی یا کوئی قوم طہارت کا لحاظ نہ رکھے اس کے کھانے پینے سے احتراز بہتر ہے اور نہ کیا جائے تو کچھ گناہ نہیں جب تك کسی خاص کھانے کی نجاست تحقیق نہ ہو،اسی بناء پر ہنود کے یہاں کھانا پینا سوائے گوشت کے جائز رکھا گیا ہے۔اگر چہ بہتر بچنا ہے۔
کمانص علیہ فی نصاب الاحتساب وغیرہ وبیناہ فی فتاوٰنا غیر مرۃ۔ جیسا کہ نصاب الاحتساب میں اس کی تصریح کی گئی ہے اور ہم نے اس کو اپنے فتاوٰی میں میں متعددبار بیان کیا ہے۔(ت)
(۴)ہاں یہ بے جاوبلاوجہ شرعی تنفرکرنے اور مسلمانوں کو برا کہنے والے گنہگارہوئے۔
(۵)جس کا ذریعہ معاش صرف مال حرام ہے۔اس کے یہاں سے بچنا ہی اولٰی ہے تحرز اعن الخلاف(اختلاف سے بچتے ہوئے۔ت)مگر کوئی کھانا حرام نہیں جب تك تحقیق نہ ہو کہ خاص یہ کھانا وجہ حرام سے ہے عملا باصل الحل(حل کے اصل ہونے پر عمل کرتے ہوئے۔ت)ہاں یہ جدام بات ہے کہ ایسے فاسقوں سے خلط ملط مناسب نہیں خصوصًا ذی علم کو۔
(۶)اگرہ وہ موٹے اور خوب گھیر دار کپڑے پہنے سرے سے پاؤ تك جسم ڈھانپنے نکلتی ہیں کہ سوا منہ کی ٹکلی اورہتھیلیوں کے بال یا گلایا بازو وکلائی یا پیٹ یا پنڈلی کچھ ظاہر نہیں ہوتا جب تو حرج نہیں ورنہ وہ عورتیں فاسِقہ اور ان کے مرد دیوث ہیں ان سے احتراز کرنا چاہئے۔اسی بناء پر کہ فاسقوں سے میل جول مناسب نہیں ورنہ اصل کھانے میں حرج نہیں۔
(۷)اس کا جواب نمبر ۳ میں آگیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع