30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاں عالم مقتدا کو بلا ضروت مطلقًا احتراز کرنا چاہئے کہ اس کا گناہ عوام کی نظرمیں ہلکا نہ ہوجائے۔
|
فی الہندیۃ عن المحیط عن الملتقیط یکرہ للمشہور المقتدٰی بہ الاختلاط الی رجل من اھل الباطل والشر الا بقدر الضرورۃ لانہ یعظم امر ہ بین ایدی الناس [1]الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
فتاوٰی ہندیہ میں ملتقط سے نقل کیا ہے کہ کسی مشہور مقتداء اور پیشوا کو اہل باطل اور اہل شر سے میل جول اور آمد ورفت رکھنا مکروہ ہے مگر بقدر ضرورت،کیونکہ وہ لوگوں کے سامنے بڑے ہوجائینگے الخ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
(۲)یہاں جواز پہلی صورت سے بھی اظہر ہے کہ ترك نماز کا مال وطعام پر کیا اثر ہے اور عالم مقتدا کو بے ضرورت اس سے احتراز مؤکد تر ہے کہ ترك نماز کبیرہ اخبث واکبر ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من ترك الصلٰوۃ متعمدا فقد کفر جہارًا رواہ الطبرانی [2]فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔ |
جس کسی نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی تو وہ کھلم کھلا کافر ہو گیا۔(یعنی حد کفر تك پہنچ گیا کیونکہ مرتکب کبیرہ بغیر انکار کے کافر نہیں ہوتا جیساکہ اصول مقرر ہ ہے)امام طبرانی نے اس کو الاوسط میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔(ت) |
اور نماز کبھی نہ پڑھنا یا بلاعذر شرعی ترك کردینا احکام میں دونون یکساں ہیں جب تك توبہ نہ کریں دونوں سخت اشد فاسق مرتکب اخبث کبیرہ ہیں ہاں جتنی بار زیادہ ترك کریگا کبائر کا شمار اور گناہوں کا بار بڑھتا جائے گا۔والعیاذ باﷲ تعالٰی واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
مسئلہ ۲۱۷ تا ۲۲۳: ازاترولی ضلع اعظم گڑھ محلہ مغلاں مرسلہ اکرام اعظم صاحب ۱۸/ جمادی الاولٰی ۱۳۲۱ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ملت محمدی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم از روئے قرآن وحدیث وفقہ کے اس بارے میں کہ ایك فرقہ مسلمان گازروں یعنی دھوبیوں کا جو اپنا پیشہ پارچہ شوئی کا کرتے ہیں اور اس وقت تك بموجب رواج قدیم اس قصبہ اترولی کے مسلمانوں کے کھانے پینے میں شریك نہیں ہیں یعنی مسلمان یہاں کے ان کا کھانا پانی نہیں کھاتے پیتے ہیں اور اس کو سخت برا سمجھتے ہیں اب وہ فرقہ مسلمان دھوبیوں کا اس امر کا خواہشمند ہےکہ ہمارا کھانا پینا سب مسلمان کھائیں پئیں اور ہم کو مسلمانوں میں ملائیں اور ہم کو احکام شرع سکھائے جائیں اور اب ہم نماز پڑھیں گے اور اس کوترك نہ کرینگے چنانچہ وہ اکثر نمازی ہوگئے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں اور مسجد میں آکر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع