30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاں بنظر مصالح شریعہ اس کی زجر وتوبیخ اورنگاہ مسلمانان میں اسی کے فعل کی تقبیح کے لئے اس کی دعوت سے احتراز خصوصا مقتداء عالم کو انسب واولٰی ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ زید نے ظاہر پیر کے نام پر بکرا یا مرغا چڑھایا اور رات بھرا گیاری کرائی یعنی بکرے کے گوشت کو آگ کے پاس رکھ کر اور جھنڈی گاڑ کر آگ میں لونگ جلائی اور گھی جلایا اور ڈبرو یعنی دف بجوا کر گانا کرایا اور اس نے اس گوشت کا کھانا پکوا کر مسلمانوں کی دعوت کی اور جس شخص نے نیاز کرائی ہے وہ مردہ بھی کھاتاہے۔اس کے یہاں کا کھانا جائز ہے یانہیں؟ اور جو شخص اس قسم کا کھانا نہ کھائے اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب:
مسلمانوں کو اس کے یہاں کھانا کھانا اس سے بات چیت کلام سلام کرنا نہ چاہئے جب تك وہ توبہ نہ کرے اس پر توبہ فرض ہے اور از سر نو کلمہ اسلام پڑھے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۵ تا ۲۱۶: از بنگالہ ضلع سلہٹ موضع قاسم نگر مرسلہ مولوی اکرم یکم ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)سود خوار کے گھر کا کھانا جائز ہے یانہیں؟ اگر جواز کی کوئی صورت ہے تو بیان فرمائیے۔
(۲)بے نمازی کے گھر کا کھانا جائز ہے یانہیں؟ اگر جواز کی کوئی صورت ہو تو ارشاد فرمائے۔اور کبھی کبھی جو شخص نماز پڑھتاہے اس کو بے نمازی کہنا جائز ہے یانہیں؟ اور جو مطلقًا نہیں پڑھتا ہے اور جو گاہے گاہے پڑھتا ہے ان دونوں شخصوں میں کیا فرق ہے۔بینوا اللہ،توجروا عنداللہ(اﷲ تعالٰی کی خوشنودی کے لئے بیان کرو تاکہ اس کے ہاں اجر وثواب پاؤ۔ت)فقط۔
الجواب:
(۱)جائز ہے جب تك خاص اس شیئ کا جواس کے سامنے لائی گئی حرام ہونا تحقیق نہ ہو۔
|
فی الہندیۃ عن الظہریۃ عن الفقیہ ابی اللیث قال قال محمد وبہ ناخذ مالك نعرف شیأا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفہ واصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنھم [1]۔ |
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ فتاوٰی ظہیریہ،فقیر ابوللیث سے مروی ہے۔فرمایا اما م محمد نے ارشاد فرمایا ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین چیز کی صورت کو نہ جائیں،امام بوحنیفہ اور ان کے اصحاب رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا یہی مذہب ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع