30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
مٹھائی،کھانا اور کپڑے وغیرہ اس وقت تك پاك اور قابل استعمال سمجھی جائیں گی جب تك ان میں کسی ناپاك و نجس چیز کی ملاوٹ یا لگاوٹ کا یقین حاصل نہ ہو اھ ملخصا۔(ت) |
مگر ان عرقوں کا بنام شراب مشہور ہونا سخت شبہہ ڈالنے والا ہے۔اور اس کا مؤید یہ ہے کہ نصارٰی کو شراب سے بے حد اشتغال ہے ان کے یہاں کی رقیق اشیاء میں کم کوئی چیز اس نجاست غلیظہ سے خالی ہوگی اور کچھ نہ ہو تو سپرٹ کی شرکت اکثر ہوتی ہی ہے کوئی ٹنچر اس سے پاك نہیں اور ایسی شرکت اگر چہ موجب سکر نہ ہو نجس وحرام کردیتی ہے اگر شراب کا کچھ میل نہ ہوتا تو اسے شراب کانام دینے کی کیا وجہ ہوتی،تو جب تك حال تحقیق نہ ہو اس سے احتراز ہی میں سلامت ہے۔حدیث میں ہے:
|
ایاك ومایسؤ الاذن [1]۔ |
جو کچھ کانوں کو برا لگے اس سے بچو۔(ت) |
ہمیں شرع مطہر نے ج سطرح بےر کام سے بچنے کاحکم فرمایا برے نام سے بھی احتراز کی طرف بلایا،سیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے لوگوں نے دریائی سور کا حکم پوچھا،فرمایا:حرام ہے۔عرض کی:وہ سورنہیں ہوتا۔فرمایا:تمھیں نے اسے اس نام سے تعبیر کیا۔واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۲: حامدا ومصلیا۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید سود خوار کے یہاں کھانا کھانا مسلمانوں کو اور وعظ مولود شریف پڑھ کر اسے سود خوار سے کچھ لینا اور اس کا پیسہ مسجد میں لگانا گیارھویں مولود شریف میں مٹھائی تقسیم کرنا اور کپڑا وغیرہ خیرات کرناحالانکہ اسی زید سود خوار کے یہاں تجارت چمڑہ فروشی وغیرہ زمینداری مالگزاری بھی ہوتی ہے ان سب صورتوں میں کیا حکم ہے؟
الجواب:
جب اس کے یہاں رزق حلال کے ذرائع تجارت زراعت بھی موجود ہیں تو امور مذکور میں کچھ حرج نہیں جب تك کسی خاص روپیہ کی نسبت معلوم نہ ہو کہ یہ وجہ حرام سے ہے۔امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
|
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ کما فی الھندیۃ عن الذخیرۃ [2]۔ |
ہم اس کو لیتے ہیں جب تك کسی معین چیز کا حرام ہونا واضح نہ ہو جیساکہ فتاوٰی عالمگیری میں ذخیرہ سے نقل کیا گیا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع