30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی دلیل اوربرہان عقل کے قیام کے کیا معنی،یہ امور متعلق بشہادت ہیں مشہور اسی طرح ہے والعلم عنداللہ(حقیقی علم کامالك اﷲ تعالی ہے۔ت)اور اس کا پتا ان کی ان حرکات سے چلتاہے جو خاص حرم محترم مکہ معظمہ میں ان کی بیباکوں سے صادر ہوتی ہوئی سنی ہیں اور بعد اطلاع سزائیں دی جاتی ہں فقیر جس زمانے میں حاضر الحج تھا خدام کرام کعبہ معظمہ کی زبانی معلوم ہوا کہ ایك رافضی نے حرم مبارك میں پیشاب کیا کہ اہلسنت کے کپڑے خراب ہوں اس زمانے میں مسموع ہوا کہ کوئی خدا ناترس معاذاﷲ حجر اسود شریف پر کوئی گندی چیز لگاگیا کہ مسلمان ایذا پائیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲: ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ از شہر کہنہ مرسلہ سید عبدالواحد متھراوی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر عرق جو انگریزی دواخانوں میں فروخت ہوتے ہیں اور نہایت ہاضم مشتہی مبہی مسمن بدن ہیں مگر ہم کو ان کی ساخت کی کیفیت بالکل معلوم نہیں،اور ان میں نشہ بھی مطلق نہیں،نہ کچھ سرور اور کیفیت ہے۔لیکن وہ شراب کے نام سے موسوم ہیں اور بیقیمت گراں فروخت ہوتے ہیں لیکن منشّی مطلق نہیں خواہ کئی گلاس پی لئے جائیں،تو ایسے عرق کے جواز میں کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اصل یہ ہے کہ اصل اشیاء میں طہارت واباحت ہے۔جب تك نجاست یا حرمت معلوم نہ ہو حکم جواز ہے۔
|
فی ردالمحتار ھذا الدودۃ ان کانت غیر مائیۃ المولد وکان لھا دم سائل فھی نجسۃ والافطاھرۃ فلایحکم بنجاستھا قبل العلم بحقیقتہا [1]اھ و فیہ عن التتارخانیۃ من شك فی انائہ اوثوبہ اوبدنہ اصابتہ نجاسۃ اولافھو طاہر مالم یستیقن وکذا مایتخذہ اھل الشرك کالسمن و الخبزوالاطعمۃ والثیاب [2] اھ ملخصًا۔ |
ردالمحتار میں ہے۔اگر کیڑے پانی میں پیدا نہ ہوں اور ان میں بہتا خون ہو تو نجس(ناپاک)ہیں بصورت دیگر یہ پاك ہیں لہذا جب تك ان کی حقیقت معلوم نہ ہو ان پر نجاست کا حکم نہیں لگایا جاسکتا اھ اور اسی میں تتارخانیہ کے حوالے سے ہے کہ جس شخص کو اپنے جسم۔لباس اور برتن کے پاك ہونے میں شك ہو تو جب تك شك یقین میں نہ بدل جائے وہ پاك ہی متصورہونگے۔اسی طرح مشرکین کی تیار کردہ اشیاء خوردونوش اور ملبوسات وغیرہ از قسم گھی، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع