30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند ضعیف۔ |
ضعیف حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے اس کی تخریج فرمائی۔ت) |
اور اگر نہ کچھ مصلحت ہونہ کچھ اندیشہ تو مباح ہے چاہے لے چاہے نہ لے۔
|
وقد بنی الامر فی ذلك علی المصالح علماؤنا الکرام کما نقلہ فی الباب الرابع عشر من کراھیۃ الہندیۃ [1]عن المحیط عن الامام الفقیہ ابی جعفر وغیرہ فراجعہ۔ |
ہمارے علماء کرام نے اس معاملہ میں مختلف مصالح پر بنیاد رکھی ہے جیسا کہ اس کو فتاوٰی ہندیہ کی بحث کراہت چودھویں باب میں بحوالہ محیط امام فقیہ ابوجعفر وغیرہ نے نقل کیا ہے لہذا اس کی طرف رجوع کیا جائے۔(ت) |
پھر ان کا پکایا ہوا یا ہدیہ دیا ہوا گوشت تو حرام ہے جب تك اپنے سامنے جانور ذبح ہو کر بغیر نگاہ سے غائب ہوئے سامنے نہ پکاہو اور اس کے سوا پکائی ہوئی چیزیں اور بازار کی مٹھائی دودھ دہی گھی ملائی سب کا ایك حکم ہے کہ فتوی جواز اور تقوٰی احتراز۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۹: ا ز ملك بنگالہ شہر نصیر آباد قصہ لاما پڑا مرسلہ محمد علیم الدین صاحب ۵ جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں:ایك شخص مسلمان سود ورشوت وغیرہ حرام کھاتاہے اور تجارتی وغیرہ حلال پیشہ بھی اس کا ہے یعنی مال مختلط حرام وحلال شے ہے۔اور وہ نماز پڑھتانہیں اس کے مکان پر کھانا کھانا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
جائز بایں معنی تو ہے کہ کھائے گا تو کوئی شے حرام نہ کھائی جب تك معلوم نہ ہو کہ یہ شے جو میرے سامنے آئی بعینہٖ حرام ہے۔
|
بہ ناخذ مالم تعرف شیئا حراما بعینہ نص علیہ محرم المذھب الامام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی کما فی الذخیرۃ[2]وغیرھا۔ |
ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین شے کے حرام ہونے کو پہچان نہ لیں چنانچہ مذہب قلمبند کرنے والے امام محمدر حمہ اﷲ تعالٰی نے اس کی صراحت فرمائی ہے جیسا کہ ذخیرہ وغیرہ کتب میں مذکورہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع