30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یونہی ملا عب الاسنہ نے کچھ ہدیہ نذر کیا۔فرمایا:اسلام لا۔انکار کیا۔فرمایا:
|
انی لا اقبل ہدیۃ مشرك رواہ الطبرانی فی الکبیر[1] عن کعب بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔ |
میں کسی مشرك کا ہدیہ قبول نہیں فرماتا۔(امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت کعب بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے بسند صحیح اسے روایت کیا ہے۔ت) |
ایك حدیث میں ارشاد فرمایا:
|
انالا نقبل شیئا من المشرکین۔رواہ احمد[2] والحاکم عن حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔ |
ہم مشرکوں سے کوئی چیز قبول نہیں فرماتے(اس کو امام احمد اور حاکم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت) |
اسی طرح اور بھی حدیثیں رد وقبول دونوں میں وارد ہیں:
|
فمنھم من زعم ان الرد نسخ القبول ورد بجھل التاریخ ومنھم من وفق بان من قبلہ منہم فاھل کتاب لا مشرك کما فی مجمع البحار اقول: قد قبل عن کسرٰی ولم یکن کتابیا الا ان یتمسك فی المجوس سنوابھم سنۃ اھل الکتاب غیر ناکحی نسألھم ولا اٰکل ذبائحھم [3]۔ |
ان میں کچھ وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ ہدیہ رد کرنے سے اس کا قبول کرنا منسوخ ہوااوریہ غلط ہے کیونکہ تاریخ معلوم نہیں۔اور بعض نے دونوں میں مطابقت اور موافقت پیدا کی کہ جن کا ہدیہ قبول فرمایا وہ اہل کتاب تھے مشرك نہ تھے جیسا کہ مجمع البحارمیں ہے اقول:(میں کہتاہوں)کہ آپ نے کسرٰی شاہ ایران کا ہدیہ قبول فرمایا حالانکہ وہ اہل کتاب نہ میں سے نہ تھا بلکہ مجوس سے تھا۔مگر یوں استدلال کیا جائے کہ مجوسی نے اہل کتاب کی روش اختیار کی البتہ ان کی عورتوں سے نکاح اور ان کے ذبیحہ کا کھانا جائز نہیں۔(ت) |
اس بارہ میں تحقیق یہ ہے کہ یہ امر مصلحت وقت وہ حالت ہدیہ آرندہ وہدیہ گیرندہ پر ہے اگر تالیف قلب کی نیت ہے اور امید رکھتاہےکہ اس سے ہدایاد تحاتف لینے دینےکا معاملہ رکھنے میں اسے اسلام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع