30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ وسلم بغلۃ فرکبھا بحبل من شعرثم اردفنی خلفہ[1] قال الحافظ الدمیاطی فی ذٰلك نظر لان کسرٰی مزق کتابہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فبعید ان یھدی لہ [2] اقول: یرد نظرہ حدیث الآتی واما استبعادہ فقد اجاب عنہ العلماء بجوابین ذکرھما الزرقانی فی شرحہ [3]علی المواھب فی ذکر بغالہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایك خچر بطور تحفہ بھیجا اور آپ نے اس پر سواری فرمائی جبکہ اس کی لگان بالوں کی رسی تھی اور آپ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایا،حافظ دمیاطی نے فرمایا اس میں اشکال ہے اس لئے کسرٰی نے آپ کا نامہ مبارك چاك کردیا تھا،اوریہ بات ناقابل فہم اور بعید ہے کہ اس نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا ہو، میں کہتاہوں محدث دمیاطی کے اعتراض کو اگلی حدیث مسترد کررہی ہے۔رہا اس کا بعید کہنا تو اہل علم حضرات نے اس کے دو جواب دیئے ہیں جن کو علامہ زرقانی نے مواھب اللدنیہ کی شرح میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وآلہ وسلم کے خچروں کے شمار کے سلسلے میں ذکر کیا ہے۔(ت) |
یونہی بادشاہ فدك نے چار اونٹنیاں پر بار نذ ر کیں۔قبول فرمائیں،اور بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو بخش دیں۔
|
رواہ ابو اداؤد[4] عن بلال المؤذن رضی اﷲ تعالٰی عنہ وفیہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال لبلال فاقبضھن واقض دینک۔ |
اس کو امام ابوداؤد نے حضرت بلال مؤذن کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔(رضی اﷲ تعالٰی عنہ)اس میں مذکور ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے فرمایا:ان پر قبضہ کرکے اپنا قرض ادا کرو۔(ت) |
قیصر روم وغیرہ سلاطین کفار کے ہدایا قبول فرمائے۔
|
احمد والترمذی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ،قال اھدی کسرٰی لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی |
امام احمد اور ترمذی نے امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کیا کی ہے کہ آپ نے فرمایا کسرٰی بادشاہ ایران نے حضور صلی اﷲ تعالٰی |
[1] المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحافیۃ تعلیم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابن عباس دارالفکر بیروت ۳ /۵۴۱
[2] شرح الزرقانی علی المواھب اللدینہ ذکر بغالہٖ علیہ الصلٰوۃ والسلام دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۸۹
[3] شرح الزرقانی علی المواھب اللدینہ ذکر بغالہٖ علیہ الصلٰوۃ والسلام دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۸۹
[4] سنن ابی داؤد کتاب الخراج والفی باب فی الامام یقبل ھدایا المشرکین آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۷۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع