30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی بنی مسواك منہ میں لینی جائز ہے۔درمختارمیں ہے:
|
شعر المیتۃ غیر الخنزیر وحافرھا وقرنھا طاھر [1]اھ ملتقطا۔ |
سوائے سور کے ہر مردار کے بال،کھر اور سینگ پاك ہوتے ہیں۔اھ متقلطًا(ت) |
البتہ خنزیر کے بالوں کا برش نجش ہے اور اس کا استعمال حرام اس سے دانت مانجنا ایسا ہے جیسے پاخانے سے اور وہ بھی بلاد یورپ سے آتے اور علانیہ بکتے ہیں۔معلوم ہونے کی صورت میں توصریح حرام ہی ہے اور شبہہ کی حالت میں بھی بچنا ہے۔اور اصل تو یہ ہے کہ مسواك کی سنت چھوڑ کر نصرانیوں کا برش اختیار کرنا ہی سخت جہالت وحماقت اور مرض قلب کی دلیل ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۴)اس کھانے والے پر کچھ الزام نہیں۔ہاں کسی کافر خصوصا ان بلاد میں انگریز کے ساتھ کھانے یامعاذاﷲ اس کا جھوٹا کھانے یا پینے سے احتراز ضرور ہے۔
|
لما فیہ من مخالفۃ الکافر وقد قدمنا کراھۃ مخالطۃ اھل الباطل والشرمطلقا فکیف الکافر فکیف اذا کان مسلطا بالحکومۃ والنفوس والموسوسۃ تحب التقرب الیہ ولما فیہ من اساء ظنون المسلمین بنفسہ وقد روی الامام احمد عن ابی الغادیۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاك و مایسوء الاذن [2] و لما فیہ من ایقاع غیرہ فی الغیبۃ ونفسہ فی التھمۃ قد جاء عن امیر المومنین عمر الفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلا یقفن مواقف التھم بل یروی فی ذٰلك عن النبی صلی اﷲ |
کیونکہ اس میں کفار سے میل جول پایا جاتاہے حالانکہ ہم اس سے پہلے اہل باطل اور اہل شر سے ملطقا میل جول کی کراہت بیان کر آئے ہیں پھر کیسے کافر سے اور کیسے حکومت پر جبرا مسلط شخص سے میل جول کا جواز ہوسکتاہے(یعنی اس کا حال تو زیادہ سنگین اور خطرناك ہے پس یہ کیسے روا ہوسکتاہے)اور وسوسے ڈالنے والے نفوس تو چاہتے ہیں کہ ان کے تقرب میں گرفتار ہوں نیز اس میں مسلمانوں کے ہاں بدگمانی پائی جانے کا امکان ہوتاہے۔امام احمد نے ابو الغادیۃ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔(اے بندو!) اپنے آپ کو ان کاموں سے بچاؤ جو کانوں کو بُرے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع