30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کہ دریں اعصار وامثال ایں کار نخیز مگرازدست کسانیکہ چنداں پرائے دین ندارند وبے باك زیستن وآزاد گزراند راحاصل زندگانی انگارندلیت ولعل چیزے دیگر ست ووقع وفعل دیگر اگر انصاف کنی واقع چنیں ست کہ درلم و تسلیم فرازمباش بہمیں تقریر نفیس بحمداﷲ تعالٰی منکشف شد حکم طعام بانصارٰی خوردن وامثال ذٰلك ازکار ہائے اہل زیغ وفتن نسأل اﷲ السلامۃ والعز والکرامۃ باز مقرر فقہ است کہ منسب امامت نشاید داد ہمچوں کسے راکہ مردماں را از ونفرتے باشد وکار بتقلیل جماعت کشد اگرچہ دریں باب گناہے از ذات آن کس نباشد چوں ولد الزنا واجذام وابرص وغیرھم ایں نکتہ ہم بنظر داشتی است و آنکہ گفت در پختن خوك ومردار باکے نیست پر غلط گفت بلے بے ضرورت شرعیہ تلوث بنجاسات ممنوع ست خاصہ بھمچوکارے کہ حاملش قصد اصلاح ماافسدہ اﷲ باشد وپختن بہر خوارندن کفار قطعا ناجائز وحرام ماحرم اخذہ حرام اعطاؤہ [1] وقال اﷲ تعالٰی "وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ ۪" [2]،واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
دین اور تقاضائے دین کو چنداں اہمیت نہیں دیتے۔بے خوف ہوکر بالکل آزادانہ لاپروائی والی زندگی گزارنا زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں۔ٹال مٹول اور لیت ولعل سے کام لینا الگ چیز ہے۔ اور کام کہ گزرنا الگ اور جدا گانہ چیز،اگر تم انصاف سے کام لوتو درحقیقت بات یہی درست اورصحیح ہے۔گو لِمَ اور لانسلم کہہ کر اس سے صف نظر کیا جائے(میں نہیں مانتا اور کیوں کیسے کا تو کوئی علاج نہیں مترجم)پس اس نفیس اور عمدۃ تقریر سے بحمداﷲ تعالٰی ظاہر ہوگیا ہے کہ عیسائیوں کے ساتھ مل کر کھانا پینا اور اس قسم کے دوسرے کام کرنا فطرت اور فتنہ بازلوگوں کا شعار ہوتاہے(مخلص اہل ایمان نہ ایسا کرتے ہیں اورنہ انھیں ایسا کرنا زیب دیتاہے۔)نیز فقہ میں یہ اصول مسلمہ ہے اور طے شدہ ہے کہ عہدہ امامت ان لوگوں کو نہیں دینا چاہئے جن سے لوگ نفرت کرتے ہوں اور بوجہ نفرت جماعت سے نماز پڑھنا چھوڑدیں اگر چہ عہدہ امات پر فائز ہونے والا بے قصور وبے گناہ ہو جیسے حرامزادہ۔کوڑ والا،مرض برص والا۔اسی طرح دیگر امراض کا شکار آدمی،لہذا یہ نکتہ پیش نظر رکھنا ضروری ہے اور جس کسی نے یہ کہا کہ سور اور مردار کا گوشت پکانے اور غیر مسلموں کو کھلانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یا کچھ مضائقہ نہیں اور خطرہ نہیں وہ شخص مذکور غلط بات کہنے کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع