30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان حدیثوں سے ثابت ہو اکہ کسی ایك بات میں مرد کو عورت،عورت کو مرد کی وضع لینی حرام وموجب لعنت ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے گیسوانتہا درجہ شانہ مبارك تك رہتے بس یہیں تك حلال ہے آگے وہی زنانہ خصلت ہے بلکہ علماء نے اس سے بھی ہلکی بات میں مشابہت پر وہی حکم لعنت بتایا۔درمختار میں ہے:
|
غزل الرجل علی ھیأۃ غزل المرأۃ یکرہ [1]۔ |
کسی مرد کا کسی عورت کے بال گوندنے کی طرح اور اس کی ہیئیت پر بال گوند نا مکروہ(ناپسندیدہ)فعل ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
لما فیہ من التشبہ بالنساء وقد لعن علیہ الصلٰوۃ و السلام والمتشبھین والمتشبہات [2]۔ |
اس لئے کہ اس میں عورتوں سے مشابہت ہے۔اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان مردوں پر لعنت فرمائی(جوعورتوں سے)مشابہت اختیار کریں،اور ان عورتوں پر بھی لعنت فرمائی جو مردوں سے مشابہت اختیار کریں۔(ت) |
فتح القدیر ودرمختار میں ہے:
|
اماالاخذ منہا(ای من اللحیۃ)وھی دون ذٰلک(ای القبضۃ)کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد واخذ کلھا فعل یہود الھند ومجوس الاعاجم [3]واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
لیکن داڑھی تراشنا جبکہ مشت بھر سے کم ہو جیسا کہ بعض مغاربہ(مغربی باشندے)اورزنانہ وضع کے مرد کیا کرتے ہیں پس اہل علم میں سے کسی عالم نے اس کو مباح نہیں فرمایا اور پوری داڑھی مونڈنا تو یہ ہند کے یہودیوں اور عجمی آتش پرستوں کا فعل اور طریقہ ہے(جو بالکل ناجائز ہے)۔(ت) |
مسئلہ ۱۹۱ تا ۱۹۲: از شیرگڑھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ عظیم اﷲ نائب مدرس ۱۳ / ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)جو اشخاص بوجہ لاعلمی کے خلاف شرع پیر مثل داڑھی منڈا اور کانوں میں مندرے پہنے ہوئے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع