30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۹علامہ شہاب الدین خفاجی اس کی شرح نسیم الریاض میں اس پر فرماتے ہیں:
|
یفرض ذٰلك ویلا حظہ ویتمثلہ فکانہ عندہ [1]۔ |
یعنی ذکر شریف کے وقت یہ فرض ملاحظہ کرے کہ خاص حضوری میں ہوں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت کا تصور جمالیا جائے کہ گویا حضور اس کے پاس جلوہ فرما ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔ |
۳۰فاضل رفیع الدین خان مراد آبادی تاریخ الحرمین میں لکھتے ہیں:
|
شبے در طواف بودم وہجوم بسیار بود بخیال خود حضور آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یاد کر دم تصور نمودم کہ آں سرور علیہ وآلہ الصلوٰۃ والسلام وطوائف ہستند وجماعت صحابہ بآنحضرت طواف میکنند ومن بطفیل ایشاں درمجمع حاضرم وروزے پیش باب بیت اﷲ ایستادہ دعا میکردم وباخود قصہ روز فتح یاد کردم وتصور نمودم کہ جناب اقدس نبوی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم در دروازہ ایستادہ اندوصحابہ کرام بحسب مرتبہ ومقام خود درخدمت شریف حاضر اند و کفار قریش ترساں وہراساں درحضور آمدہ اند و آنحضرت ازایشاں عفو فرمودہ ملاحظہ ایں حال باعث شد بتوسل از آنجناب ودعا درحضرت عزت جلت عظمتہ برائے مغفرت خود جمیع اقارب واحباب وقضائے حوائج دین ودنیا ونر جو من اﷲ الاجابۃ ان شاء اﷲ تعالٰی ؎ |
ایك رات میں طواف کررہا تھا ہجوم کثیر تھا میں نے اپنے خیال میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یادکیا اور تصور کیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام طواف فرمارہے ہیں اور صحابہ کرام کی جماعت بھی حضور کے ساتھ طواف کررہی ہے اور میں بھی آپ کے طفیل وہاں مجمع میں حاضرہوں، اور ایك روز میں بیت اﷲ شریف کے آگے کھڑا دعا کررہا تھا کہ مجھے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فتح مکہ والا منظر یاد آیا اور تصور کیاکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فتح کے روز بیت اﷲ شریف کے دروازے پر تشریف فرماہیں اور صحابہ کرام اپنے مراتب کے لحاظ سے اپنی جگہ پر خدمت میں حاضر ہیں اور کفار مکہ ڈرتے ہوئے پریشان آپ کے سامنے آرہے ہیں اور آپ ان کو معاف فرمارہے ہیں اس تصور کی برکت سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وسیلے اور اﷲ تعالٰی کے دربارمیں دعا کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع