30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بوقوفہ بین یدیہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سماعہ لسلامہ کما ہو فی حال حیاتہ اذلا فرق بین موتہ و حیاتہ فی مشاھدتہ لامتہ ومعرفتہ باحوالھم و نیاتھم و عزائمھم وخواطرھم وذٰلك عندہ جلی لاخفاء بہ ویمثل(یصور)الزائر وجہہ الکریم علیہ الصلوٰۃ و السلام فی ذھنہ ویحضر قلبہ جلال رتبتہ و علم منزلتہ وعظیم حرمتہ[1] اھ ملخصا |
وہ اب بھی زندہ ہیں اور تصور کرے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس کی حاضری سے آگاہ ہیں اس کا سلام سن رہے ہیں بعینہٖ اسی طرح جیسے حال حیات ظاہری میں کہ حضور کی وفات و حیات دونوں ان امور میں یکساں ہیں کہ حضور اپنی امت کو دیکھتے اور ان کے احوال کو پہچانتے ہیں اور ان کی نیتوں اور ارادوں اور دل کے خطروں سے آگاہ ہیں اور یہ سب باتیں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر ایسی روشن ہیں جنھیں اصلا پوشیدگی نہیں اور زائر اپنے ذہن میں حضور والا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے چہرہ کریمہ کا تصور جمائے اور دل میں حضور کی بزرگی مرتبہ وبلندی قدرواحترام عظیم کا خیال لائے۔ |
۲۵علامہ رحمت اﷲ ہندی تلمیذ امام ابن الہمام منسك متوسط اور ۲۶علامہ علی قاری مکی اس کی شرح مسلك متقسط میں فرماتے ہیں:
|
ثم توجہ(ای بالقلب والقالب)مع رعایۃ الادب فقام تجاہ الوجہ الشریف متواضعا خاضعا خاشعا مع الذلۃ والانکسار والخشیۃ والوقار والہیبۃ والافتقار غاض الطرف مکفوف الجوارح فارغ القلب(من سوی مرامہ)واضعا یمینہ علی شمالہ مستقبلا لوجہ الکریم مستدبر القبلۃ متمثلا صورتہ الکریمۃ فی خیالک(ای فی تخیلات بالك لتحسین حالک) مستشعرا |
یعنی زائر دل وبدن دونوں سے بنہایت ادب مزار اقدس کی طرف متوجہ کو کر مواجہہ شریف میں کھڑا ہو تواضع وخشوع و خضوع وتذلل وانکسار وخوف ووقار وہیبت ومحتاجی کے ساتھ آنکھیں بند کئے اعضاء کو حرکت سے روکے دل اس مقصود مبارك کے سوا سب فارغ کئے ہوئے داہنا ہاتھ بائیں پر باندھے، حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف منہ اور قبلہ کو پیٹھ کرے دل میں حضور انور صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ کی صورت کریمہ کا تصور باندھے کہ یہ خیال تجھے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع