30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مراد لے کر مبحث تقلیدی سے آیت کو بیگانہ بتانا غیر مقلدوہابیوں کی نری جہالت ہے،
اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ کہ مخصوص سبب کا الی ذٰلك من الفوائد مما یستخرجہ البصیر الناقد(دیگر فوائد جن کو پرکھنے والے صاحب بصیرت نے ظاہر کیا ہے۔ ت)شاہ صاحب کی یہ نفیس عبارت کس قدر قابل قدر و منزلت کہ معدود حرفوں میں کتنے فوائد نفیسہ بتاگئے اور آدھی بلکہ دو تہائی وہابیت کو خاك میں ملاگئے والحمد ﷲ رب العالمین۔
اب پھر شمار عبارات کی طرف چلئے، ۱۲تمام خاندان دہلی کے آقائے نعمت وخداوند دولت ومرجع و منتہٰی ومفرغ وملجا وسید ومولٰی جناب شیخ مجدد صاحب رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ اپنے مکتوبات کی جلد اول میں فرماتے ہیں:
|
ہیچ طریقے اقرب بوصول از طریق رابطہ نیست تاکدام دولتمند رابآں سعادت مستسعد سازند [1]" |
وصول کے طریقوں میں سے اقرب ترین طریقہ رابطہ ہے کہ بہت سے ابدی دولت والے اس سے بہرہ ور ہوئے ہیں۔(ت) |
۱۳اسی میں ہے:
|
"مخدومامقصد اقصی ومطلب اسنٰی وصول بجناب قدس خداوندی ست جل سلطانہ لیکن چوں طالب در ابتداء بواسطہ تعلقات شتی درکمال تدنس وتنزل ست وجناب قدس اوتعالٰی درنہایت تنزہ وترفع ومناسبتے کہ سبب افاضہ واستفاضہ است درمیان مطلوب وطالب مسلوب ست لاجرم از پیر راہ دان راہ بین چارہ نمودہ کہ برزخ بود(الی قولہ)پس درابتدا ودر توسط مطلوب رابے آئینہ پیر نمیتواں دید [2]" |
اے میرے مخدوم! سب سے بڑا اور اعلٰی مقصد اﷲ جل شانہ تك رسانی ہے لیکن کوئی طالب ابتدائی مرحلہ میں دنیاوی مشاغل کی وجہ سے انتہائی کثافت اور کہتری میں ہوتا ہے جبکہ اﷲ تعالٰی انتہائی پاك اور بلند ذات ہے اس وجہ سے طالب ومطلوب کے درمیان فیض کے حصول وعطا کے لئے کوئی مناسبت نہیں ہے لہذا ضروری ہے راستہ جاننے اور دیکھنے والا مرشد واسطہ بنے،(اوریہاں تك فرمایا)ابتدائی اور درمیائے مرحلہ میں پیر کے آئینہ کے بغیر مطلوب کو نہیں دیکھ سکتا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع