30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قضیہ کل بدعۃ ضلالۃ [1](ہر بدعت گمراہی سے۔ ت)قطعا عام مخصوص منہ البعض ، ہاں اگر بدعت شرعیہ لیجئے یعنی:
|
ما احدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے حاصل شدہ حق کے خلاف کوئی نئی چیز ہو(ت) |
تو بیشك وہ اپنی صراحت عموم ومحوضت اطلاق پر ہے علماء تفسیر حدیث میں دونوں طرف گئے مگر یہ اعجوبہ ملفقہ کو پہلوں سے تفسیر لیں اور دوسروں سے اطلاق یہ خاص ایجاد حضرات انجاد ہے جس پر شرع سے اصلا دلیل نہیں اور جس کی بناء پر شاہ عبد العزیز وشاہ ولی اﷲ سے ہزار برس تك کے ائمہ شریعت وسادات طریقت یا ہزاروں تابعین یا صدہا صحابہ بھی معاذاﷲ بدعتی قرارپاتے ہیں، اور ان کے بعض جری بیباکوں مثل بھوپالی بہادر وغیرہ نے اس کی صاف تصریح بھی کردی وہ بھی کہاں، خاص امیر المومنین غیظ المنافقین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے بارے میں
"وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪
"[2](اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ت)
۹نہم عدم نقل نقل عدم نہیں۔
۱۰دہم عدم فعل قاضی منع نہیں کف میں اتباع ہے نہ مجرد ترك میں۔
۱۱یاز دہم یہ جاہلی مغالطہ کہ اس طریقے میں کوئی بھلائی ہوتی تو صحابہ ہی کرتے تم کیا ان سے بھی زیادہ دین کی سمجھ رکھتے تو محض بیہودہ ونامسموع ہے۔
۱۲دوازدہم اولیائے کرام کے ایجادات محمودومقبول ہیں۔
۱۳سیزدہم وہ اہل الذکر ہیں دوسروں کو ان پر اعتراض نہیں پہنچتا بلکہ ان کی طرف رجوع اور جو وہ فرمائیں اس پر عمل چاہئے۔
۱۴چہاردہم کفار سے غیر شعار میں اتفاقی مشابہت ہرگز وجہ ممانعت نہیں ورنہ حبس دم کہ جوگیوں کا مشہور طریقہ ہے ممنوع ہوتا۔
۱۵پانزدہم آیۃ " "فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ[3](وجوب تقلید میں نص ہے ۔ اہل ذکر سے علمائے اہل کتاب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع