30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علم کی پہنچ ہے۔ ت)مگر نزد عقلاء ، فضلاء عن الفضلاء یہ بے اصل استناد تشبت بالحشیش وخرط القتاد(تنکے کا سہارا اور مشکل میں پھنسنا ہے۔ ت)عدم نقل، نقل عدم نہیں، نہ عدم فعل منع کو مستلزم ، کاش خود معنی جواز لم یؤمر بہ ولم ینہ عنہ(نہ اس کا حکم اور نہ اس کی ممانعت ہے۔ ت)کو سمجھتے تو جانتے کہ جس امر سے اس کا ابطال چاہتے ہیں وہ خود اس کی حد کا احد المصادیق ہے۔ کہ نقل مع عدم الطلب فعلا وکفا وعدم ذکر راسا دونوں اسی انعدام امرونہی کی صورتیں ہیں تو یہ استدلال ایسا ہوا کہ ثبوت اخص کوا رتفاعِ اعم پر دلیل بنائے وھل ھوالا بہت بحت(یہ خاص بہتان ہے۔ ت)یہ بحث بھی فقیر نے اپنے رسائل مذکورہ ونیز رسالہ انھار الانوار من یم صلوٰۃ الاسرار(۱۳۰۵ھ)ورسالہ سرور العید السعید فی حل الدعاء بعدصلوٰۃ العید(۱۳۰۷ھ)وغیرہا میں تمام کردی۔
|
ولمن احسن تفصیل تلك المباحث ختام المحققین امام المدققین اعلم العلماء سیف السنۃ علم الاسلام سیدنا الوالد قدس الواجد سرالماجد فی کتابہ الجلیل"اذاقۃ الاثام لما نعی عمل المولد و القیام" وسفرہ الجمیل"اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد" و غیرھما من تصانیفہ الجیاد علیہ الرحمۃ الجواد۔ |
ان مباحث کی اچھی تفصیل کرنے والوں میں سب سے بہتر خاتم المحققین علماء کرام کے بڑے سنت کی تلوار، اسلام کے جھنڈے حضرت والد گرامی کی کتاب"اذاقۃ الاثام لما نعی عمل المولد والقیام"اور کتاب جمیل"اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد"وغیرہما میں ہے۔ اﷲ تعالٰی ان پر رحمت فرمائے۔(ت) |
اوراگر عدم ورود ہی پر مدار منع ٹھہرا تو ایك شغل برزخ ہی پر کیا موقوف ، عامہ اشغال وافکار اور ان کے طریق واطوار کہ طبقہ فطبقۃً تمام اکابر اولیائے قدست اسرارہم میں رائج ومعمول رہے سب معاذاﷲ بدعت شنیعہ وحرام وممنوع قرار پائیں گے کہ ان میں بہت تو راسًا اوربہت بایں ہیئات خاصہ واوضاع جزئیہ ہر گز حضور پرنور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا صحابہ وتابعین سے ثابت نہیں ہاں ہاں قول الٰہی عزوجل:
|
فیما یرویہ عنہ نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من عادی لی ولیا فقد اٰذنتہ بالحرب، کما فی الجامع الصحیح وغیرہ [1]۔ |
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اﷲ تعالٰی سے روایت فرمایا کہ جس نے میرے ولی سے عداوت کی میں اس سے جنگ کا اعلان کرتاہوں جیسا کہ صحیح بخاری میں وغیرہ میں ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع