30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کید وخدیعت ہے نہ جانا یا جانا اور نہ مانا کہ قول جواز کا حاصل کتنا صرف اس قدر کہ لم ینہ عنہ یالم یؤمر بہ ولم ینہ عنہ (یہ ممنوع نہیں یا نہ مامور ہے نہ ممنوع۔ ت)تو مجوز نافی امرونہی ہے اور نافی پر شرعا وعقلا بینہ نہیں جو حرام وممنوع کہے وہ نہی شرعی کامدعی ہے ثبوت دینا اسکے ذمے ہے کہ شرع نے کہاں منع کیا ہے۔ علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی رسالۃ الصلح بین الاخوان میں فرماتے ہیں:
|
ولیس الاحتیاط فی الافتراء علی اﷲ تعالٰی باثبات الحرمۃ والکراھۃ الذین لابدلھما من دلیل بل فی الاباحۃ التی ھی الاصل [1]۔ |
حرام اور مکروہ قرار دینے میں اﷲ تعالٰی پر افتراء باندھنے میں احتیاط نہیں ہے ان دونوں حکموں کے لئے دلیل چاہئے بلکہ احتیاط اباحت میں ہے جو اصل حکم ہے۔(ت) |
علامہ علی مکی رسالہ اقتدا بالمخالف میں فرماتے ہیں:
|
من المعلوم ان الاصل فی کل مسئلۃ ھو الصحۃ واما القول بالفساد والکراہۃفیحتاج الی حجۃ [2]۔ |
مسلمہ بات ہے کہ ہر مسئلہ میں اصل صرف اباحت ہے فساد اور کراہت کے حکم کے لئے دلیل کی ضرورت ہے۔(ت) |
غرض مانع فقہی مدعی بحثی ہے اور جواز کا قائل مثل سائل مدعا علیہ جس سے مطالبہ دلیل محض جنون یا تسویل ا س کے لئے یہی دلیل بس ہے کہ منع پر کوئی دلیل نہیں۔ مسلم الثبوت میں ہے:
|
کل ماعدم فیہ المدرك الشرعی للحرج فی فعلہ وترکہ فذلك مدرك شرعی لحکم الشارع بالتخییر [3]۔ |
کسی کام کے کرنے میں اور نہ کرنے میں حرج کے مسئلہ میں کوئی شرعی دلیل نہ ہو تو یہ خود شرعی دلیل ہے کہ شرعا اختیار ہے۔(ت) |
فقیر غفر اﷲ تعالٰی لہ رسالہ اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تھامہ(۱۲۹۹ھ)ورسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین (۱۳۰۱ھ)وغیرہما میں اس بحث کو واضح کرچکا وﷲ الحمد امثال مقام میں نہایت سعی منکرین عدم نقل سے استدلال ہے۔ ذٰلك مبلغھم من العلم(یہی ان کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع