30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مسلك صحیح داشتہ باشد، دوم آنکہ پیردرادائے حق شریعت قاصر ومتہاون نباشد سوم آنکہ پیر راعقائد درست بود موافق مذہب سنت و جماعت پیری ومریدی بے ایں سہ شرائط اصلا درست نیست [1]۔ |
یہ ہے کہ پیر مسلك صحیح رکھتا ہو دوسری شرط یہ ہے کہ پیر حقوق شرعیہ ادا کرے، اور تیسری شرط یہ ہے کہ پیر کے عقائد مذہب اہلسنت و جماعت کے مطابق ہوں یہ وہ شرطیں ہیں جن کے بغیر پیری ومریدی ہر گز صحیح نہیں ہوسکتی،(یعنی اتباع احکام شریعت میں سست اور کاہل نہ ہوں)(ت) |
پھر شرط اول کی تفصیل ارشاد فرماکر شرط دوم کے متعلق فرمایا:
|
شرط دوم پیرآنست کہ عالم وعامل باشد برجملہ عبادات بر انواع ودرادائے احکام قاصر ومتہاون نبود واگر برانواع عبادات عالم نبود عامل نتواند شد ، واز حد شرع بیفتد پس پیری رانشاید زیراکہ ہر کہ از مقام حقیقت بیفتد بر طریقت قرار گیرد، و ہر کہ از شریعت بیفتد گمراہ کردد وگمراہ پیر رانشاید امادر ویشے کہ مرجع خلائق بو د او را احتیاط در جزئیات شریعت فرض لازم ست باید کہ یك دقیقہ از دقائق شرع ازوفوت نشود کہ وسیلہ گمراہی مریدان ست بجہت آنکہ گویند کہ پیر ما ایں چنیں کار کردہ است پس اوضال ومضل گردد [2]۔ |
پیری کی دوسری شرط کی توضیح یہ ہے کہ پیر کو عامل باعمل ہونا ضروری ہے، شریعت کی مقررہ فرمودہ عبادات واحکام میں کوتاہی اور سستی کو دخل نہ دے اب اگر کوئی شخص عبادات و(فرائض وواجبات ، سنن ومستحبات،محرمات و مکروہات) سے واقف نہیں تو ظاہر ہے کہ وہ ان پر عمل نہ کرسکے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ حد شریعت سے گر جائے گا، اوراب پیر بننے کا اہل نہ رہے گا، اس لئے جو شخص مقام حقیت سے گرتاہے وہ طریقت پر رك جاتاہے اور جو طریقت سے گرتاہے شرعیت پر ٹھہر جاتاہے اور جو شخص شریعت سے گرتاہے وہ گمراہی میں پڑ جاتاہے۔ اور گمراہ آدمی پیری کے قابل نہیں، پھر جو درویش کہ مرجع خلائق ہو اس پر شریعت کے احکام جزئی کی احتیاط فرض ولازم ہوجاتی ہے لہذا اس پر فرض ہے کہ شریعت کے آداب ومستحبات سے بھی کسی ادب و مستحب سے غافل نہ رہے اور اسے فوت نہ ہونے دے کہ یہ چیز مریدوں کی گمراہی کی سند ہوجاتی ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع