30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیکھو کیسا قاطع جواب ارشاد ہوا۔ آدمی شراب پئے اور کہہ دے کمال استغراق کے سبب ہمیں خبر نہ ہوئی کہ شراب ہے یا پانی، زنا کرے اور کہہ دے ہمیں تمیز نہ ہوئی کہ جوروہے یا بیگانی۔
(۴)ایك بار کسی نے عرض کی کہ فلاں موضع میں بعض یاروں نے مجمع کیا اور مزامیر وغیرہ حرام چیزیں ہیں، حضرت سلطان المشائخ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:
|
من منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیان نباشد نیکونہ کردہ اند [1]۔ |
میں نے منع فرمادیا ہے کہ مزامیر ومحرمات درمیان نہ ہوں، ان لوگوں نے اچھا نہ کیا۔ |
(۵)حضور کے خلیفہ شیخ محمد بن مبارك رحمۃ اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں حضرت محبوبیت منزلت نے اس باب میں نہایت شدت اورسخت تاکید سے ممانعت فرمائی یہاں تك کہ فرمایا کہ اگر امام نماز پڑھاتا ہو اور جماعت میں کچھ عورتیں بھی ہوں امام کو سہو واقع ہو، مرد تو سبحان اﷲ کہہ کر امام کو مطلع کریں عورت بتانا چاہے تو کیا کرے، سبحان اﷲ تو کہے گی نہیں کہ اسے اپنی آواز سنانی نہ چاہئے پھر کیا کرے۔
|
پشت دست برکف دست زند وکف دست برکف دست نہ زند کہ آں بہ لہو می ماند تا ایں غایت از ملاہی وامثال آں پرہیز آمدہ است پس در سماع طریق اولٰی کہ ازیں بابت نباشد [2]۔ |
ہاتھ کی پشت کو ہتھیلی پر مارے ہتھیلی کو ہتھیلی پر نہ مارے کیونکہ تالی لہو میں شمار ہوتی ہے۔ جب یہاں تك کہ آپ لہو والی چیزوں سے پرہیز فرماتے تو سماع میں بطریق اولٰی ضروری ہے کہ ایسا نہ ہو۔(ت) |
شیخ مبارك فرماتے ہیں:
|
یعنی در منع دستك چندیں احتیاط آمدہ است پس در سماع مزامیر بطریق اولٰی منع است [3]۔ |
یعنی تالی بجانے میں منع کے لئے یہ احتیاط تھی تو سماع میں مزامیر سے منع بطریق اولٰی ہے۔(ت) |
سبحان اﷲ ! جو بند گان خدا تالی کو ناجائز جانیں بندگان نفس ان کے سرستار اور ڈھولك کی تہمت باندھیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع