30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرع میں سستی وکاہلی بھی جائز نہ رکھتے نہ کہ معاذاﷲ احکام شرعیہ کو ہلکا جاننا چشتی ہونے کو بندگی شرع سے پروانہ آزادی ماننا والعیاذباﷲ رب العالمین ۔سردار سلسلہ علیہ بہشتیہ حضرت سلطان الاولیا ء شیخ المشائخ محبوب الہی نظام الحق والدین محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کے ارشادات عالیہ سنئے فرماتے:
|
(۱)چندیں چیز می باید تاسماع مباح شود مستمع و مسمع آلہ سماع، مسمع یعنی گویندہ، مرد تمام باشد کودك نباشد وعورت نباشد و مستمع آنکہ می شنود ازیاد حق خالی نبا شد ومسموع انچہ بگویند فحش و مسخرگی نباشد وآلہ سماع مزامیر است چوں چنگ درباب ومثل آں می باید درمیان نباشدایں چنیں سماع حلال است [1]۔ |
چندچیزیں پائی جائیں تو سماع حلال ہوگا، سنانے والے تمام مرد بالغ ہوں بچے اور عورت نہ ہوں سننے والے اﷲ تعالٰی کی یاد سے خالی نہ ہوں کلام فحش ومذاق سے خالی ہو اور آلات سماع سرنگی اور طبلہ وغیرہ نہ ہو تو ایسا سماع حلال ہوگا(ت) |
(۲)ایك بارحضرت محبوب الٰہی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کسی نے عرض کی آجکل بعضے خانقاہ دار درویشوں نے مزامیر کے مجمع میں وجد کیا۔ فرمایا:
|
نیکونہ کردہ اند انچہ نامشروع ست ناپسندیدہ ست [2]۔ |
اچھا نہ کیا جو بات شرع میں ناروا ہے وہ کسی طرح پسندیدہ نہیں۔ |
(۳)کسی نے عرض کی کہ جب وہ لوگ وہاں سے باہرآئے ان سے کہا گیا کہ تم نے یہ کیا کیا وہاں تو مزامیر تھے تم نے وہاں جا کر کیوں قوالی سنی اور وجد کیا، وہ بولے ہم ایسے مستغرق تھے کہ ہمیں مزامیر کی خبرنہ ہوئی، حضرت شیخ المشائخ نظام الحق والدین نے فرمایا:
|
ایں جواب ہم چیزے نیست ایں سخن درہمہ معصیتہا بیاید [3]۔ |
یہ جواب بھی محض مہمل ہے سب گناہوں میں یہی حیلہ ہو سکتاہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع