30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ ولایت سے یہ دیہات مراد ہیں تو یہ اوروں کی ملك ہیں نہ کہ خواجہ مودو دکی، اورا گر ولایت سے یہ لوگ مراد ہیں تو یہ بادشاہ سنجر کی رعیت ہیں تو یوں بادشاہ شیخ الشیوخ ٹھہرے گا، اور اگر ولایت سے وہ مراد ہے جو میں جانتاہوں اور جسے اولیاء اﷲ جانتے ہیں تو کل ہم انھیں دکھادیں گے کہ ولایت کا کام کیا اور کیسا ہوتا ہے قاصدوں کو یہ جواب عطا فرمایا اور ادھر ابرعظیم آیا، اور ایك رات دن ابر برسادم بھر کو نہ دم لیا۔ دوسرے دن صبح کو حضرت والا نے فرمایا:گھوڑے کسو کہ خواجہ مودود کی طرف چلیں، اصحاب نے عرض کی، ندی چڑھ گئی اب جب تك چند روز بارش موقوف نہ ہو کوئی ملاح کشتی بھی نہیں لے جاسکتا۔ فرمایا:کچھ مشکل نہیں آج ہم ملاحی کریں گے جب سوار ہو کر جنگل میں پہنچے ملاحظہ فرمایا کہ ایك انبوہ مسلح حضرت کے ہمراہ ہے۔ فرمایا:یہ کون لوگ ہیں ۔ عرض کی:حضور کے مرید ومحب ہیں، یہ سن کر کہ ایك جماعت حضور کے مقابلے کو آئی ہے یہ حضور کے ہمراہ ہولئے، فرمایا:انھیں واپس کرو تیر وتلوار تو سنجر کا کام ہے اولیاء کے ہتھیار اور ہی ہیں، غرض چند خدام کے ساتھ ندی کنارے پہنچے پانی طغیانی پر تھا، فرمایا:آج یہ ٹھہری ہے کہ ہم ملاحی کریں گے، معرفت الٰہی میں کلام فرمانا شروع کیا تمام حاضرین ذوق سے بیخود ہوگئے، فرمایا:آنکھیں بند کرلو اور بسم اﷲ الرحمن الرحیم کہہ کر چلو، لوگوں نے ایسا ہی کیا، جس نے آنکھ جلدی کھول دی اس کا جوتا تر ہوا اور جس نے ذرادیر کر کھولی اس کا جوتا بھی خشك رہا، اور سب نے اپنے آپ کو دریا کے اس پار پایا، قاصدوں نے جو یہ ماجرا دیکھا جلدی کرکے حضرت صاحبزادہ خواجگان کے حضور حاضر ہوئے اور حال عرض کیا، کسی کو یقین نہ آیا، صاحبزادہ دوہزار مریدمسلح کے ساتھ متوجہ ہوئے اور جیسے حضر ت شیخ الاسلام سے نظر دو چارہوئی صاحبزادہ بے اختیار پیادہ ہوئے اور حضرت والا کے پائے مبارك پر بوسہ دیا حضرت ان کی پیٹھ ٹھونکتے اور فرماتے تھے، ولایت کا کام دیکھا تم نہیں جانتے مردان خدا کی فوج سلاح سے نہیں جاؤ سوار ہو ابھی بچے ہو تمھیں نہیں معلوم کہ کیا کرتے ہو۔ جب بستی آئے حضرت شیخ الاسلام مع اپنے اصحاب کے ایك محلہ میں اترے اورحضرت صاحبزادہ مع مریدان دوسرے محلہ میں ، دوسرے دن ان مریدین صاحبزادہ نے کہا ہم آئے تھے شیخ احمد کو اس ملك سے نکالنے اور آج وہ ہمارے ساتھ ایك ہی گاؤں میں مقیم ہیں کوئی فکر عمدہ کرنی چاہئے، حضرت خواجہ موود نے فرمایا:میری رائے میں صواب یہ ہے کہ صبح ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے اجازت لیں ان کا کام ہمارے بس کا نہیں۔ مریدوں نے کہا:بلکہ رائے صواب یہ ہے کہ کوئی کام پر جاسوس مقرر کریں جب ان کے قیلولہ یعنی دوپہر کو آرام کا وقت آئے اور لوگ ان کے پاس سے چلے جائیں وہ تنہا رہیں اس وقت ہماری ایك جماعت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع