30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشریعۃ ھی الشجرۃ والحقیقۃ ھی الثمرۃ [1]۔ |
شریعت درخت ہے اور حقیقت پھل ہے۔ |
درخت وثمر کی نسبت بھی وہی بتا رہی ہے کہ درخت قائم ہے تو اصل موجود ہے مگر جو اصل کاٹ بیٹھا وہ نرا محروم ومردود ہے۔ پھر اس کی مثال کی بھی وہی حالت ہے جو ہم منبع وبحر میں بیان کرآئے ہیں،درخت کٹ جائے تو آئندہ پھل کی امید نہ رہی مگر جو پھل آچکے ہیں یہاں درخت کٹتے ہی آئے ہوئے پھل بھی فنا ہوجاتے ہیں اور فنا ہوتے ہی پھر بس نہیں بلکہ انسان کا دشمن ابلیس لعین غلیظ اورگوبر کے پھل جادو سے بنا کر اس کے منہ میں دیتا ہے اوریہ اپنی حالت سے انھیں ثمر حقیقت جان کر خوش خوش نگلتاہے جب آنکھ بند ہوگئی اس وقت کھلے گا کہ منہ میں کیا بھرا تھا والعیاذ باﷲ تعالٰی ان درختوں میں قریب تر مثال پان اور اس کی بیل کی ہے خوشبو،خوشرنگ،خوش ذائقہ،مفرح،مقوی دل ودماغ، مصفی خون مطیب نکہت وجہ سرخروئی باعث زینت،اور پھر عجیب خاصہ یہ کہ بیل سوکھے تو اس کے پان جہاں جہاں ہوں معا سوکھ جائیں گے یہ ایك ادنٰی مثال شریعت و حقیقت یا اس جاہل کے طورپر شریعت وطریقت کی ہے۔
قول ۴۱:عارف باﷲ حضرت سیدی علی خواص رضی اﷲ تعالٰی عنہ پیر ومرشد امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی فرماتے ہیں:
|
علم الکشف اخبار بالامور علی ماھی علیہ فی نفسہا و ھذا اذا حققتہ وجدتہ لایخالف الشریعۃ فی شیئ بل ھوالشریعۃ بعینھا [2]۔ |
یعنی علم کشف یہ ہے کہ اشیاء جس طرح واقع وحقیقت میں ہیں اسی طرح ان سے خبردے اسے اگر توتحقیق کرے تو اصلا کسی بات میں شریعت کے خلاف نہ پائے گا بلکہ وہ عین شریعت ہے۔ |
قول ۴۲:نیز ولی ممدوح رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
|
جمیع مصابیح علماء الظاھر والباطن قد اتقدت من نور الشریعۃ فما من قول من اقوال المجتہدین و مقلدیھم الاوہو مؤید باقوال اھل الحقیقۃ |
علمائے ظاہر ہوں خواہ علمائے باطن سب کے چراغ شریعت ہی کے نور سے روشن ہیں،تو ائمہ مجتہدین اور ان کے مقلدین کسی کاکوئی قول ایسا نہیں کہ اہل حقیقت کے اقوال اس کی تائید |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع