30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیکھوبے عمل کہ گناہوں سے اپنی جان پر ظلم کررہے ہیں انھیں بھی کتاب کا وارث بتایا اور نرا وارث ہی نہیں بلکہ اپنے چنے ہوئے بندوں میں گنا،احادیث میں آیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:
|
سابقنا سابق ومقتصدنا ناج وظالمنا مغفورلہ والحمدﷲ رب محمد الرؤف الرحیم علیہ وعلی اٰلہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم،رواہ العقیلی وابن لال و ابن مردویہ والبیھقی فی البعث والبغوی فی المعالم [1] عن امیر المومنین عمر،والبیھقی وابن مردویہ عن ابن عمر وابن النجار عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ |
ہم میں کا جو سبقت لے گیا وہ تو سبقت لے ہی گیا او رجو متوسط حال کا ہوا،وہ بھی نجات والا ہے اور جو اپنی جان پر ظالم ہے اس کی بھی مغفرت ہے،(والحمدﷲ رب محمد الرؤف الرحیم علیہ وعلی آلہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔اسے عقیلی،ابن لال،ابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں اور بغوی نے معالم میں امیر المومنین عمر سے اور بیہقی اور ابن مردویہ نے ابن عمر سے اور ابن نجار نے انس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ت) |
عالم شریعت اگراپنے علم پر عامل بھی ہو چاند ہے کہ آپ ٹھنڈا اور تمھیں روشنی دے ورنہ شمع ہے کہ خو دجلے مگر تمھیں نفع دے،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
مثل الذی یعلم الناس الخیر وینسٰی نفسہ مثل الفتیلۃ تضیئ للناس وتحرق نفسہا،رواہ البزار [2] عن ابی ھریرۃ والطبرانی عن جندب بن عبداﷲ الازدی وعن ابی برزۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہم بسند حسن۔ |
اس شخص کی مثال جو لوگوں کو خیر کی تعلیم دیتا اور اپنے آپ کو بھول جاتاہے اس فتیلہ کی طرح ہے کہ لوگوں کو روشنی دیتا ہے اور خود جلتاہے اس کو بزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور طبرانی نے حضرت جندب بن عبداﷲ ازدی اور حضرت ابوبرزہ السلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بسند حسن روایت کیا۔ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع