30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خاص خاص لوگوں کو خفیہ تعلیم ہوتے ہیں تو علمائے باطن کہ علوم ولایت کے وارث ہوئے وارثان اولیاء ٹھہرے نہ کہ وارثان انبیاء،وارثان انبیاء یہی علمائے ظاہر رہے جنھوں نے علوم نبوت پائے،مگر یہ اس جاہل کی اشد جہالت ہے۔حاشا نہ شریعت وطریقت دو راہیں ہیں نہ اولیاء کبھی غیر علماء ہوسکتے ہیں علامہ مناوی شرح جامع صغیر پھر عارف باﷲ سید عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں امام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
|
علم الباطن لایعرف الا من عرف علم الظاھر[1]۔ |
علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتاہے۔ |
امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
|
وما اتخذاﷲ ولیا جاھلا[2]۔ |
اﷲ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا۔ |
یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اس کے بعد ولی کیا کہ جو علم ظاہر نہیں رکھتا علم باطن کہ اس کا ثمرہ ونتیجہ ہے کیونکر پاسکتا ہے،حق سبحانہ وتعالٰی کے متعلق بندوں کےلئے پانچ علم ہیں :علم ذات،علم صفات،علم افعال،علم اسماء،علم احکام۔
ان میں ہر پہلا دوسرے سے مشکل تر ہے۔جو سب سے آسان علم احکام میں عاجز ہوگا سب سے مشکل علم ذات کیونکر پاسکے گا اور قرآن شریف انھیں مطلقًا وارث بتارہاہے حتی کہ ان کے بے عمل کو بھی یعنی جبکہ عقائد حق پر مستقیم اور ہدایت کی طرف داعی ہو کہ گمراہ اور گمراہی کی طرف بلانے والا وارث نبی نہیں نائب ابلیس ہے والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ہاں رب عزوجل نے تمام علماء شریعت کو کہاں وارث فرمایا ہے یہاں تك کہ ان کے بے عمل کو بھی،ہاں وہ ہم سے پوچھئے،مولٰی عزوجل فرماتا ہے:
|
" ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصْطَفَیۡنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ ۚ وَ مِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَ مِنْہُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیۡرٰتِ بِاِذْنِ اللہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیۡرُ ﴿ؕ۳۲﴾ "[3] |
پھر ہم نے کتاب کا وارث کیااپنے چنے ہوئے بندوں کو تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے اور کوئی متوسط حال کا اور کوئی بحکم خدا بھلائیوں میں پیشی لے جانے والا یہی بڑا فضل ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع