30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کفر وارتداد اور وہ زندقہ والحاد موجب لعنت ابعاد ہے۔ہاں یہ کہنا تو حق ہے کہ اصل مقصود وصول الی اﷲ ہے۔مگر حیف اس پر جو اپنی جہالت شدیدہ سے نجانے یا جانے اور عناد شریعت کے باعث نہ مانے کہ وصول الی اﷲ کاراستہ یہی شریعت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے وبس،ہم اوپر قرآن مجید سے ثابت کرآئے ہیں کہ شریعت کے سوااﷲ تك راہیں بند ہیں،طریقت اگر وہ اپنے زعم میں کسی راہ مخالف کا نام سمجھا ہے تو حاشا وہ خدا تك پہنچائے بلکہ وہ مسدود اور اس کا چلنے والا مردود،اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پراس کی تہمت ملعون ومطرود،کیا کوئی ثبوت دے سکتاہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی کسی کوشریعت کے خلاف دوسری راہ کی طرف بلایا ہے حاشا وکلا۔
(۶)جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عمر بھر اسی کی طرف بلایا اوریہی راستہ ہمارے لئے چھوڑا تو اس کا حامل اس کا خادم اس کا حامی اس کا عالم کیونکر ان کا وارث نہ ہوگا،ہم پوچھتے ہیں اگر بالفرض شریعت صرف فرض واجب سنت مستحب حلال وحرام ہی کے علم کا نام ہو تو یہ علم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے یا ان کے غیر سے اگر اسلام کاد عوٰی رکھتاہے تو ضرور کہے گا کہ حضور ہی سے ہے۔پھر اس کا عالم حضور کا وارث نہ ہوا تو او رکس کا ہوگا،علم ان کا ترکہ پھر اس پانے والا اس کا وارث نہ ہو اس کے کیا معنی۔اگر کہے کہ یہ علم تو ضرور ان کا ہے مگر دوسرا حصہ یعنی علم باطن اس نے نہ پایا لہذا وارث نہ ٹھہرا تو اے جاہل! کیا وارث کے لئے یہ ضرور ہے کہ مورث کاکل مال پائے یوں تو عالم میں کوئی صدیق ان کا وارث نہ ٹھہرے گا،اور ارشاد اقدس ان العلماء ورثۃ الانبیاء معاذاﷲ غلط بن کر محال ہوجائے گا،کہ ان کا کل علم تو کسی کو مل ہی نہیں سکتا اور اگر بالفرض غلط شریعت وطریقت دو جدا رہیں بنیں اورقطرہ دریا کی نسبت جانیں جس طرح یہ جاہل بکتاہے جب بھی علمائے شریعت سے وراثت انبیاء کا سلب کرنا جنون محض ہوگا،کیا ترکہ مور ث سے تھوڑا حصہ پانے والاوارث نہیں ہوتا،جسے ملا ان کے علم میں سے تھوڑا ہی ملا "وَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۵﴾ "[1]اگر یہ شریعت طریقت کی معاذاﷲ برائی فرض کرلیں تو انصافا حدیث ان مسخرگان شیطان پر الٹی پڑے گی یعنی علمائے ظاہری وارثان انبیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء ٹھہرینگے اور علمائے باطن عیاذا باﷲ اس سے محروم،انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نبی بھی ہوتے ہیں اور ولی بھی ان کے علوم نبوت یہ ہیں جن کو شریعت کہتے ہیں،جن کی طرف وہ عام امت کو دعوت کرتے ہیں،اور علوم ولایت وہ ہیں جن کو یہ جاہل طریقت کہتاہے اور وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع