30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی سے سن لیا اور نہ جانا کہ یہ وسعت نہ ہوتی تو اس میں کس گھر سے آتی،شریعت منبع ہے اور طریقت اس میں سے نکلا ہوا ایك دریا۔بلکہ شریعت اس مثال سے بھی متعالی ہے۔منبع سے پانی نکل کر دریا بن کر جن زمینوں پر گزرے انھیں سیراب کرنے میں اسے منبع کی احتیاج نہیں۔نہ اس سے نفع لینے والوں کو اصل منبع کی اس وقت حاجت،مگر شریعت وہ منبع ہے کہ اس سے نکلے ہوئے دریا یعنی طریقت کو ہر آن اس کی احتیاج ہے منبع سے اس کا تعلق ٹوٹے تو یہی نہیں کہ صرف آئندہ کے لئے مدد موقوف ہوجائے فی الحال جتنا پانی آچکا ہے چند روز تك پینے،نہانے،کھیتیاں،باغات سینچنے کا کام دے نہیں نہیں منبع سے اس کا تعلق ٹوٹتے ہی یہ دریا فورا فنا ہوجائے گا،بوند تو بوند نم کا بھی نام نظر نہ آئے گا،نہیں نہیں،میں نے غلطی کی،کاش اتنا ہی ہوتا کہ دریا سوکھ گیا،پانی معدوم ہوا،باغ سوکھے،کھیت مرجھائے،آدمی پیا سے تڑپ رہے ہیں،ہر گز نہیں،بلکہ یہاں سے اس مبارك منبع سے تعلق چھوٹتے ہی یہ تمام دریا البحرالمسجور ہوکر شعلہ فشاں آگ ہوجاتا ہے جس کے شعلوں سے کہیں پناہ نہیں،پھر کاش وہ شعلے ظاہری آنکھوں سے سوجھتے تو جو تعلق توڑنے والے جلے خاك سیاہ ہوئے تھے اتنے ہی جل کرباقی بچ جاتے کہ ان کا یہ انجام دیکھ کر عبرت پاتے مگر نہیں وہ تو " نَارُ اللہِ الْمُوۡقَدَۃُ ۙ﴿۶﴾ الَّتِیۡ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْـِٕدَۃِ ؕ﴿۷﴾ "[1]ہے۔اﷲ کی بھڑکاتی ہوئی آگ کہ دلوں پر چڑھتی ہے۔ اندر سے دل جل گئے،ایمان خاك سیاہ ہوگئے۔اور ظاہر میں وہی پانی نظر آرہا ہے دیکھنے میں دریا اور باطن میں آگ کا دہرا،آہ آہ کہ اس پر دے نے لاکھوں کو ہلا ك کیا،پھر دریا منبع کی مثال سے ایك اور فرق عظیم ہے جس کی طرف اشارہ گزرا کہ نفع لینے والوں کو اس وقت منبع کی حاجت نہیں،مگر حاشا یہاں منبع سے تعلق نہ توڑئیے کہ پانی باقی رہے اور آگ نہ ہوجائے جب بھی ہر آن منبع سے اس کی جانچ پڑتال کی حاجت ہے وہ یوں کہ یہ پاکیزہ شیریں دریا جو اس برکت والے منبع سے نکل کر اس دار الالتباس کی وادیوں میں لہریں لے رہا ہے۔یہاں اس کے ساتھ ایك سخت ناپاك کھاری دریا بھی بہتا ہے۔ "ہٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ ہٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ۚ"[2]ایك خوب میٹھا شیریں ہے اور ایك سخت نمك کھاری،وہ دریائے شور کیا ہے شیطان ملعون کے وسوسے دھوکے،تو دریائے شیریں سے نفع لینے والوں کو ہر آن احتیاج ہے کہ ہر نئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع