30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہی وہ راہ ہے جس کا منتہا اﷲ ہے۔قرآن عظیم میں فرمایا: اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ ﴿۵۶﴾"[1]بیشك اس سیدھی راہ پر میرا رب ملتاہے۔یہی وہ راہ ہے جس کا مخالف بددین گمراہ ہے،قرآن عظیم نے فرمایا:
|
"وَ اَنَّ ہٰذَا صِرٰطِیۡ مُسْتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنۡ سَبِیۡلِہٖؕ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۵۳﴾[2] |
(شروع رکوع سے احکام شریعت بیان کرکے فرماتاہے)اور اے محبوب! تم فرمادو کہ یہ شریعت میری سیدھی راہ ہے تو اس کی پیروی کرو اور اس کے سوااور راستوں کے پیچھے نہ جاؤ کہ وہ تمھیں اس کی تاکید فرماتاہے تاکہ تم پرہیز گاری کرو۔ |
دیکھو قرآن مجید نے صاف فرمادیا کہ شریعت ہی صرف وہ راہ ہے جس سے وصول الی اﷲ ہے اور اس کے سوا آدمی جو راہ چلے گا اﷲ کی راہ سے دور پڑے گا۔
(۲)عمرو کا قول کہ طریقت نام ہے وصول الی اﷲ کا محض جنون وجہالت ہے۔ہر دو حرف پڑھا ہوا جانتا ہے۔کہ طریق طریقہ طریقت راہ کو کہتے ہیں نہ کہ پہنچ جانے کو،تو یقینا طریقت بھی راہ ہی کا نام ہے اب اگر وہ شریعت سے جدا ہو تو بشہادت قرآن مجید خدا تك نہ پہنچائے گی،بلکہ شیطان تك جنت میں نہ لے جائے گی بلکہ جہنم میں کہ شریعت کے سوا سب راہوں کو قرآن مجید باطل ومردود فرماچکا۔لاجرم ضرور ہوا کہ طریقت ہی شریعت ہے کہ اسی راہ روشن کا ٹکڑا ہے اس کا اس سے جدا ہونا محال ونا سزا ہے جو اسے شریعت سے جدا جانتا ہے اسے راہ خدا سے توڑ کر راہ ابلیس مانتا ہے مگر حاشا طریقت حقہ راہ ابلیس نہیں قطعا راہ خدا ہے تو یقینا وہ شریعت مطہرہ ہی کا ٹکڑا ہے۔
(۳)طریقت میں جو کچھ منکشف ہوتا ہے شریعت ہی کے اتباع کا صدقہ ہے ورنہ بے اتباع شرع بڑے بڑے کشف راہبوں،جوگیوں،سنیاسیوں کو ہوتے ہیں،پھر وہ کہاں تك لے جاتے ہیں اسی نار جحیم وعذاب الیم تك پہنچاتے ہیں۔
(۴)شریعت کو قطرہ طریقت کو دریا کہنا اس مجنون پکے پاگل کا کام ہے جس نے دریا کا پاٹ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع