30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
متقی کیونکر بے پیرا،یا معاذاﷲ مرید شیطان ہوسکتاہے اگر چہ کسی کاص کے ہاتھ پر بیعت نہ کی ہوکہ یہ جس راہ میں ہے اس میں مرشد عام کے سوا مر شد خاص کی ضرورت ہی نہیں،تو جتنا پیرا سے درکار ہے حاصل ہے۔تو اولیاء کا قول دوم کہ جس کے لئے شیخ نہیں اس کا شیخ شیطان ہے اس سے متعلق نہیں ہوسکتا اور قول اول کہ بے پیر افلاح نہیں پاتا۔یہ تو بداہۃ اس پر صادق نہیں فلاح تقوٰی بلاشبہہ فلاح ہے اگر چہ فلاح احسان اس سے اعظم واجل ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
|
" اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمۡ مُّدْخَلًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾ "[1] |
اگر تم گناہوں سے بچے تو ہم تمھاری برائیاں مٹادیں گے اور تمھیں عزت والے مکان میں داخل فرمائیں گے۔ |
یہ بلاشبہہ نفوز عظیم ہے مولی تعالٰی نے اہل تقوٰی واہل احسان دونوں کے لئے اپنی معیت ارشاد فرمائی:
|
اِنَّ اللہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحْسِنُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾٪" "[2] |
بے شك اﷲ متقیوں کے ساتھ ہے اور ان کے جو اہل احسان ہیں۔ |
یہ کیسا افضل عظیم ہے اور فلاح کے لئے کیا چاہئے اقول بات یہ ہے کہ تقوٰی عموما ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور اس فلاح اعلی یعنی عذاب سے رستگاری کے لئے بفضل الٰہی حسب وعدہ صادقہ کافی ووافی،احسان یعنی سلوك راہ ولایت اعلٰی درجے کا مطلب و محبوب ہے مگر اس کی طرح فرض نہیں ورنہ اولیاء کے سوا کہ ہر دور میں صرف اایك لاکھ بیس ہزارہوتے ہیں باقی کروڑ ہا کروڑ مسلمان ہزار ہا علماء وصلحا ء سب معاذاﷲ تارك فرض وفساق ہوں اولیاء نے بھی کبھی اس راہ کی عام دعورت نہ دی کروڑوں میں سے معدودے چند کو اس پر چلایا اور اس کے طالبوں میں سے بھی جسے اس بار کے قابل نہ پایا واپس فرمایا فرض دے واپس کرنا کیونکر ممکن تھا:
|
" لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ"[3] "لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىہَا ؕ"[4] |
اﷲ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت بھر اﷲ کسی کو تکلیف نہیں دیتامگر اتنے کی جو اسے دیا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع