30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں تك کہ بعض خبیثوں صاحب سجادہ بلکہ قطب وقت بننے والوں کو یہ لفظ کہتے سنے گئے کہ عالم کون ہے۔سب پنڈت ہیں،عالم تو وہ جو انبیائے نبی اسرائیل کے سے معجزے دکھائے(۲)وہ دہرئے ملحد فقیر وولی بننے والے کو کہتے ہیں شریعت راستہ ہے ہم تو پہنچ گئے،ہمیں راستے سے کیا کام،ان خبیثوں کا رد ہمارے رسالے "مقال عرفا باعزار شرع وعلماء" میں ہے،
اما ابوالقاسم قشیری قدس سرہ،رسالہ مبارك میں فرماتے ہیں:
|
ابوعلی الروذباری بغدادی اقام بمصر ومات بہا سنۃ اثنتین وعشرین و ثلثمائۃ صحب الجنید والنوری اظرف المشائخ واعلمھم بالطریقۃ سئل عمن یسمع الملاھی ویقول ھی لی حلال لانی وصلت الی درجۃ لا توثرفی اختلاف الاحوال فقال نعم قدر وصل ولکن الی سقر۔[1] |
یعنی سیدی ابوعلی روذباری رضی اﷲ تعالٰی عنہ بغدادی ہیں۔ مصرمیں اقامت فرمائی اور اسی میں ۳۲۲ھ میں وفات پائی، سیرا لطائفۃ جنید و حضرت ابوالحسین احمد نوری رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے اصحاب سے ہیں،مشائخ میں ان سے زیادہ علم طریقت کسی کو نہ تھا۔اس جناب میں سوال ہوا کہ ایك شخص مزامیر سنتا اورکہتاہے یہ میرے لئے حلال ہیں اس لئے کہ میں ایسے درجے تك پہنچ گیا کہ احوال کا اختلاف مجھ پر کیوں اثر نہیں ڈالتا،فرمایا ہاں پہنچا تو ضرور مگر کہاں تك جہنم تک، |
عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قد س سرہ،کتاب الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر میں فرماتے ہیں فرماتے ہیں:حضور سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے عرض کی گئی کچھ لوگ کہتے ہیں ان التکالیف کانت وسیلۃالی الوصول وقد وصلنا شریعت کے احکام تو وصول کے وسیلہ تھے اور ہم دارصل ہوگئے،فرمایا صدقوا فی الوصول ولکن الی سقر والذی یسرق ویزنی خیر ممن یعتقد ذٰلك [2]وہ سچ کہتے ہیں،واصل تو ضرور ہوئے مگر جہنم تک،چور اورزانی ایسے عقیدے والوں سے بہتر ہے۔
(۳)وہ جاہل اجہل یا ضال اضل کہ بے پڑھے کتابیں پڑھ کر بزعم خود عالم بن کر ائمہ سے بے نیاز ہو بیٹھے جیسا کہ قرآن وحدیث ابوحنیفہ وشافعی سمجھتے تھے ان کے زعم میں یہ بھی سمجھتے ہیں بلکہ ان سے بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع