30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بیان وبرھان للصحۃ [1]۔ |
مجھے صحیح معلوم نہیں ہوتا۔شیخ کے پاس اس کی صحت پر دلیل قطعی ہے۔ |
اما ابوالقاسم قشیری رسالہ میں فرماتے ہیں:میں نے حضرت ابوعبدالرحمن سلمی کو فرماتے سنا کہ ان سے ان کےشیخ حضرت ابو سہل صعلوکی نے فرمایا:
|
من قال الاستاذہ لم،لایفلح ابدا [2]۔ |
جوا پنے پیر سے کسی بات میں کیوں کہے گا کبھی فلاح نہ پائے گا۔ |
نسأ اﷲ العفو والعافیۃ(اﷲ تعالٰی سے ہم معافی اور عافیت ك دعاکرتے ہیں۔ت)
جب یہ اقسام معلوم ہولئے تو اب حکم مسئلہ کی طرف چلئے،مطلق فلاح کے لئے مرشد عام کی قطعا ضرورت ہے۔فلاح تقوٰی ہو یا فلاح احسان مرشد سے جدا ہو کر ہر گز نہیں مل سکتی اگرچہ مرشد خاص رکھتا بلکہ خود مرشد خاص بنتا ہو،اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)پھر اس سے جدائی دو طرح ہے:
اوّل: صرف عمل میں جیسے کسی کبیرے کا مرتکب یا صغیر ے پر مصر،اور اس سے بدتر ہے وہ جاہل کہ علماء کی طرح رجوع ہی نہ لائے اور اس سے بدتر کہ باوصف جہل ذی رائے بنے،احکام علماء میں اپنی رائے کو دخل دے یا حکم کے خلاف اپنے یہاں کے باطل رواج پر اڑے اور اسے حدیث وفقہ سے بتادیا جائے کہ یہ رواج بے اصل ہے جب بھی اس کوحق کہے،بہر حال یہ لوگ فلاح پر نہیں۔اور بعض بعض سے زائد ہلاکت میں ہیں مگر صرف ترك عمل کے سبب نہ بے پیرا ہو نہ اس کا پیر شیطان جبکہ اولیاء وعلمائے دین کا سچے دل سے مقتد ہو اگر چہ شامت نفس نافرمانی پر لائے کہ بیعت جس طرح باعتبار پیر خاص دو۲ قسم تھی یوں ہی باعتبار مرشد عام بھی،اگر اس کے حکم پر چلتاہے،بیعت ارادت رکھتاہے ورنہ بیعت برکت سے خالی نہیں کہ ایمان واعتقاد ت تو ہے تو گنہ گار سنی اگر کسی پیر جامع شرائط اربعہ کا مرید ہے فبہا اورنہ بوجہ حسن اعتقاد مرشد عام کے منتسبوں میں ہے اگر چہ نا فرمانی کے باعث فلاح پر نہیں دوم منکر ہو کہ جدائی مثلًا(۱)وہ ابلیس مسخرے کہ علمائے دین پر ہنستے اور ان کے احکام کو لغو سمجھتے ہیں انہی میں وہ جھوٹے مدعیان فقر جو کہتے ہیں کہ عالموں فقیروں کی سدا سے ہوتی آئی ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع