30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
DhÕ"[1] |
کرے وہ کھلا گمرا ہ ہوا۔ |
عوارف شریف میں ارشاد فرمایا:
|
دخولہ فی حکم الشیخ دخولہ فی حکم اﷲ ورسولہ واحیاء سنۃ المبایعۃ [2]۔ |
شیخ کے زیر حکم ہونا اﷲ ورسول کے زیر حکم ہونا ہے اور اس بیعت کی سنت کازندہ کرنا۔ |
نیزفرمایا:
|
ولایکون ھذ ا الالمرید حصر نفسہ مع الشیخ و انسلخ من ارادۃ نفسہ وفنی فی الشیخ بترك اختیار نفسہ [3]۔ |
یہ نہیں ہوتا مگر اس مرید کے لئے جس نے اپنی جان کو شیخ کی قید کردیا اور پانے ارادے سے بالکل باہر آیا اپنا ختیار چھوڑ کر شیخ میں فنا ہوگیا۔ |
پھر فرمایا:
|
ویحذر الاعتراض علی الشیوخ فانہ السم القاتل للمرید ین،وقل ان یکون مرید یعترض علی الشیخ بباطنہ فیفلح،ویذکر المرید فی کل ما اشکل علیہ من تصاریف الشیخ قصۃ الخضر علیہ السلام کیف کان یصدر من الخضر قصاریف ینکرھا موسٰی،ثم لما کشف لہ عن معنا ھا بان بزلموسی وجہ الصواب فی ذٰلك فھکذا ینبغی للمرید ان یعلم ان کل تصرف اشکل علیہ صحتہ من الشیخ عند الشیخ فیہ |
پیروں پر اعتراض سے بچے کہ یہ مریدوں کے لئے زہر قاتل ہے۔کم کوئی مرید ہوگا جو اپنے دل میں شیخ پر کوئی اعتراض کرے پھر فلاح پائے،شیخ کے تصرفات سے جو کچھ اسے صحیح نہ معلوم ہوتے ہوں ان میں خضر علیہ الصلٰوۃ والسلام کے واقعات یاد کرلے کیونکہ ان سے وہ باتیں صادر ہوتی تھیں بظاہر جن پر سخت اعتراض تھا(جیسے مسکینوں کی کشتی میں سوراخ کردینا، بے گناہ بچے کو قتل کردینا)پھر جب وہ اس کی وجہ بتاتے تھے ظاہر ہوجاتا تھاکہ حق یہی ہے تھا جو انھوں نے کہا،یوں ہی مریدکو یقین رکھنا چاہئے کہ شیخ کا جو فعل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع