30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فَقَدْ فَازَ ؕ"[1] |
فلاح کو پہنچا۔ |
اور فلاح احسان سے اعظم ہے کہ عذاب کا کیا ذکر کسی قسم کا اندیشہ وغم بھی ان کے پاس نہیں آتا۔
|
" اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾"[2] |
خبردار! اولیاء اﷲ پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(ت) |
بہرحال اس فلاح کے لئے ضرور پیر ومرشد کی حاجت ہے چاہے قسم اول کی ہو یا دوم کی ۔
اقول: اب مرشد بھی دو۲ قسم ہے:
اول:عام کہ کلام اﷲ وکلام الرسول ائمہ شریعت وطریقت وکلام علمائے دین اہل رشد و ہدایت ہے اسی سلسلہ صحیحہ پر کہ عوام کا ہادی کلام علماء،علماء کا رہنما کلام ائمہ ائمہ کا مرشد کلام رسول،رسول کا پیشوا کلام اﷲ جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،فلاح ظاہر ہو یا فلاح باطن اسے اس مرشد سے چارہ نہیں جو اس سے ہے بلا شبہ کافر ہے یا گمراہ اور اس کی عبادت بربادو تباہ۔
دوم: خاص کہ بندہ کسی عالم سنی صحیح العقیدہ صحیح الاعمال جامع شرائط بیعت کے ہاتھ میں ہاتھ دے،یہ مرشد خاص جسے پیر وشیخ کہتے ہیں۔پھر دو قسم ہے:
اول شیخ اتصال(بنائے فوقانی)یعنی جس کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انسان کا سلسلہ حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تك متصل ہوجائے اس کےلئے چارہ نہیں شرطیں ہیں:
(۱)شیخ کا سلسلہ باتصال صحیح حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تك پہنچا ہو،بیچ میں منقطع نہ ہو کہ منقطع کے ذریعہ سے اتصال ناممکن۔بعض لوگ بلاد بیعت محض بزعم وراثت اپنے باپ دادا کے سجادے پر بیٹھ جاتے ہیں یا بیعت تو کی تھی مگر خلاف نہ ملی تھی بلا اذن مرید کرنا شروع کردیتے ہیں یا سلسلہ ہی وہ ہو کہ قطع کردیا گیا اس میں فیض نہ رکھا گیا لوگ براہ ہوس اس میں اذن وخلافت دیتے چلے آتے ہیں۔یاسلسلہ فی نفسہٖ اچھا تھا مگر بیچ میں کوئی ایسا شخص واقع ہواجو بوجہ انتفائے بعض شرائط قابل بیعت نہ تھا اس سے جو شاخ چلی وہ بیچ میں سے منقطع ہے ان صورتوں میں اس بیعت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع