30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ثلاث لم تسلم منہا ھذا ا لامۃ الحسد و الظن و الطیرۃ الاانبئکم بالمخرج منہا اذا ظننت فلا تحقق واذا حسدت فلاتبغ واذا تطیرت فامض،رواہ رستہ فی کتاب [1]الایمان عن الامام الحسن البصری مرسلا ووصلہ ابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلفظ اذاحسدتم فلاتبغوا واذا ظنتم فلا تحققوا واذا تطیرتم فامضوا وعلی اﷲ فتوکلوا [2]۔ |
تین خصلتیں اس امت سے نہ جھوٹیں گی،حسد،بدگمانی اور بدشگونی،کیامیں تمھیں ان کا علاج نہ بتادوں،بد گمانی آئے تو اس پر کاربند نہ ہو اور حسد آئے تو محسود پر زیادتی نہ کراور بدشگونی کے باعث کے سے کام رك نہ رہو(اس حدیث کو رستہ نے کتاب الایمان میں امام حسن بصری سے بے ذکر صحابہ سے روایت اور ابن عدی نے متصل ابوہررہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جب تمھارے دل میں حسد آئے توزیادتی نہ کرو اور بدگمانی آئے تو اسے جما نہ دو اور بدشگونی آئے تو رکو نہیں اور اﷲ ہی پر بھروسہ کرو۔ت) |
یہ فلاح قوٰی ہے اس سے آدمی سچا متقی ہوجاتاہے۔ہم نے اسے فلاح ظاہر بایں معنیں کہا کہ اس میں جو کچھ کرنا نہ کرنا ہے اس کے احکام ظاہر وواضح ہوچکے ہیں " قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ۚ"[3]۔(بیشك ہدایت ظاہر ہوگئی گمراہی سے۔ت)
دوم: فلاح باطنی کہ قلب وقالب رذائل سے متخلی اور فضائل سے متجلی کرکے بقا پائے شرك خفی دل سے دورکئے جائیں یہاں تك کہ لا مقصود الا اﷲ(کوئی مقصود نہیں سوائے اﷲ کے۔ت)پھر لامشھود الا اللہ(کوئی نظر میں نہیں سوائے اﷲ کے) پھر لاموجود الا اللہ(کوئی وجود ذاتی نہیں رکھتا سوائے اﷲ کے)متجلی ہو یعنی اولا ارادہ غیر سے خالی ہو پھر غیر نظر سے معدم ہو پھر حق حقیقت جلوہ فرمائے کہ وجود اسی کے لئے ہے باقی سب ظلال وپرتو،یہ منتہائے فلاح وفلاح احسان ہے۔فلاح تقوٰی میں تو عذاب سے دور اور جنت کا چین تھا کہ:
|
" فَمَنۡ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ |
جو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ ضرور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع