30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ ابتدائے اسلام میں کسی دور دراز پہاڑ یا گمنام ٹاپو کے رہنے والے غافل جن کو نبوت کی خبر ہی نہ پہنچی اوردنیا سے صرف توحید پر گئے،بالاخر ان کے لئے بھی یہ فلاح ثابت۔صحیح بخاری وصحیح مسلم انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:اہل محشر اور انبیاء سے مایوس پھر کر میرے حضور حاضر ہو ں گے میں فرماؤں گا انا لھا میں ہوں شفاعت کےلئے۔پھر اپنے رب سے اذن چاہوں گا وہ مجھے اذن دے گامیں سجدے میں گروں گا ارشاد ہوا۔یامحمد ارفع راسك وقال تسمع وسل تعطہ واشفع تشفع اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو کہ تمھاری بات سنی جائے گی اور مانگو تمھیں عطا کیا جائے گا،اور شفاعت کرو کہ تمھاری شفاعت قبول ہے۔میں عرض کروں گا اے میرے رب! میری امت میری امت،فرمایا جائے گا جاؤ جس کے دل میں جَو بھر ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو،انھیں نکال کر میں دوبارہ حاضر ہوں گا سجدہ کروں گا وہی ارشاد ہوگا کہ اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو کہ سنا جائے گا مانگو کہ دیا جائے گا،شفاعت کرو کہ قبول ہے،میں عرض کروں گا اے میرے رب! میری امت میری امت۔ارشاد ہوگا جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو نکال لو،میں انھیں نکال کر سہ بارہ حاضر ہوکر سجدہ کروں گا فرمائے گا اے محمد! اپنا سراٹھاؤ،اور جو کہو منظور ہے جو مانگو عطا ہے شفاعت کرو مقبول ہے،میں عرض کرو ں گا اے میرے رب میری امت میری امت،ارشاد ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے سے کم تر ایمان ہو اسے نکال لومیں انھیں نکال کر چھوتھی بار حاضر وساجد ہوں گا ارشاد ہوگا اے محمد ! پنا سراٹھا ؤ اور کہو کہ سنیں گے مانگو کہ دیں گے شفاعت کرو کہ قبول کرینگے۔میں عرض کروں گا الٰہی! مجھے ان کے نکالنے کی اجازت دے جنھوں نے تجھے ایك جانا ہے۔ارشاد ہوگا یہ تمھارے سبب نہیں بلکہ مجھے اپنے عزت وجلال و کبریاوعظمت کی قسم ہر مؤحد کو اس سے نکال لوں گا [1]
اقول:یہ ان کے بارے میں رد شفاعت حضور نہیں بلکہ عین قبول ہے کہ حضور کے عرض کرنے ہی پر توجہنم سے نکالے گئے،فقط یہ فرمایا گیا ہے کہ ان کو رسالت سے توسل کا موقع نہ ملا مجرد وعقل جنتے ایمان کے لئے کافی تھی یعنی توحید اسی قدر رکھتے تھے،ثم اقول معنی حدیث کی یہ تقریر کہ ہم نے کی اس سے ظاہر ہوا کہ یہ اس حدیث صحیح کے معارض نہیں کہ فرمایا:
|
مازلت اتردد علی ربی فلا اقوم فیہ مقاما الا |
میں اپنے رب کے حضور آتا جاتارہوں گا جس |
[1] صحیح البخاری کتاب التوحید باب کلام الرب یوم القیمۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۔۱۱۱۸،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع